|

وقتِ اشاعت :   December 9 – 2022

سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دے دیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے 13 صفحات پر مشتمل مختصر رائے سنا دی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ ریفرنس میں دو سوالات پوچھے گئے جبکہ معدنی وسائل کی ترقی کے لیے سندھ اور خیبر پختونخوا حکومت قانون بنا چکی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ قانون میں تبدیلی سندھ اور خیبر پختونخوا کا حق ہے اور آئین خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا تاہم صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں اور یہ معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے۔ بیرک کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ تنخواہوں کے قانون پر مکمل عمل ہو گا اور مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوںمیں سرمایہ کاری کی جائے گی اور وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اسکل ڈویلپمنٹ کے لیے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ریکوڈک معاہدے کے مطابق زیادہ تر مزدور پاکستان کے ہوں گے اور ریکوڈک معاہدہ فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے لیے قانون بنائے جائیں۔ ریکوڈک معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کے خلاف نہیں اور بلوچستان اسمبلی کو بھی معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی جبکہ بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی۔ بہرحال بلوچستان میں ریکوڈک ایک بہت بڑا منصوبہ ہے سونے کی چڑیا اسے کہا جاتا ہے مگر افسوس کہ اس اہم منصوبے میں جتنے مسائل پیدا ہوئے اس سے بلوچستان کو ہی نقصان ہوا ہے۔ بلوچستان میں جتنے بھی میگا منصوبے چل رہے ہیں ان پر متعدد بار انہی ادارتی صفحات میں لکھا جاچکا ہے اور اس بات پرزور دیا گیا ہے کہ خدارا بلوچستان کے میگامنصوبوں سے صوبے کو بھی بھرپور مالی فائدہ ملنا چاہئے جس میں روزگار ، تعلیم، صحت سمیت بنیادی سہولیات مقامی سطح پر لوگوں کو ملنے چاہئیں جس ضلع میں یہ منصوبے ہیں ۔لیکن حالت یہ ہے کہ آج بھی میگامنصوبے بلوچستان میں چل رہے ہیں۔

جن کا منافع کمپنی اور وفاقی حکومت لے رہے ہیں جبکہ بلوچستان کو تو اس کے حصے کا جائز رقم تک نہیں ملتا ،پھر ہیرپھیر کرکے چند شخصیات کرپشن کرتے ہیں،ایسی بیسیوئوں مثالیں موجود ہیں مگر پکڑ کسی کی نہیں ہوتی البتہ ملک میں سیاسی انتقامی کارروائیوں میں نیب کو استعمال کرتے ہوئے گرفتاریاں کی جاتی ہیں اصل ملزمان کی پکڑ ہوتی نہیں ہے ۔لہٰذا بلوچستان کے ساتھ ان زیادتیوں کا سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہئے سوئی گیس سے لیکر ریکوڈک تک کے منصوبوں سے بلوچستان کواس کاجائز حق دینا ضروری ہے۔ امید ہے کہ اس بار بلوچستان کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور بلوچستان کو پرانے سمیت نئے منصوبوں سے فائدہ پہنچایاجائے گا۔