|

وقتِ اشاعت :   December 27 – 2022

گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا۔ گوادر کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں جس کے باعث معمولات زندگی منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔پولیس نے ’حق دو تحریک‘ کے کیمپ پر اتوار کی شب کارروائی کی تھی جس میں حسین واڈیلا سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ گوادر میں لوگوں کی بڑی تعداد شہر میں احتجاج کے لیے نکل آئی جن کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں کے ساتھ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی قیادت میں ایک حکومتی وفد نے اس سے قبل مذاکرت کیے تھے جس میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔جبکہ حکومت بلوچستان نے گوادر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری ’حق دو تحریک‘ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پورٹ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس کو محدود کارروائی کرنی پڑی۔ ’حق دو تحریک‘ کی جانب سے دوسری مرتبہ مطالبات کے حق میں گوادر شہر میں احتجاج کا سلسلہ 27 اکتوبر سے شروع کیا گیا تھا۔’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کے لیے نہ آنے پر گوادر شہر میں پورٹ اور ایئرپورٹ کے سامنے دھرنا دینے کے علاوہ ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی ریلی میں شامل تھی۔’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے لوگوں کے احتجاج کو اہمیت نہیں دی تو ایک اور احتجاجی دھرنا کیمپ ایکسپریس وے پر گوادر پورٹ کے قریب قائم کیا گیا۔ایکسپریس وے پر احتجاجی کیمپ کو قائم کرنے کے باعث پورٹ کو جانے والے تمام اہم راستے بند ہوگئے۔

ایکسپریس وے پر دھرنے کی منتقلی کے بعد ضلعی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے حکام نے ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں سے بات چیت کی لیکن ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں نے ان کے کہنے پر کیمپ کو وہاں سے نہیں ہٹایا۔مولانا ہدایت الرحمان نے دعویٰ کیا کہ دھرنا کیمپ آ نے والی خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے نام سے تحریک گزشتہ سال شروع کی گئی تھی۔مولانا ہدایت الرحمان اور گوادر کے معروف سیاسی شخصیت حسین واڈیلا کی جانب سے گوادر شہر میں ماہی گیروں کے مسائل، سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور دیگر مسائل پر سخت موقف اختیار کرنے پر ’حق دو تحریک‘ کو بڑی پذیرائی ملی تھی۔’حق دو تحریک‘ نے یہ دھرنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو کی قیادت میں ہونے والی مذاکرات میں مطالبات پر علمدرآمد کی یقین دہانی پر ختم کیا تھا۔تاہم رواں سال ایک مرتبہ پھر 27 اکتوبر سے دھرنے کا آغاز کیا گیا اور دو بارہ دھرنا شروع کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا تھا کہ مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔’حق دو تحریک‘ کا کہنا ہے کہ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ بلوچستان کے سمندری حدود میں اب بھی غیر قانونی ماہی گیری کا سلسلہ جاری ہے۔ ’حق دو تحریک‘ کے بڑے مطالبات میں بلوچستان کے سمندری حدود سے غیرقانونی ماہی گیری کو روکنا، لاپتہ افراد کی بازیابی، ایران کے ساتھ مکران کے لوگوں کو سرحدی تجارت میں زیادہ سے زیادہ رعایتوں کی فراہمی، گوادر سمیت مکران سے منشیات کا خاتمہ، اسکولوں اور ایسے مقامات سے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کا خاتمہ جہاں سے گھروں میں خواتین نظر آتی ہیں اور گوادر شہر کے بنیادی مسائل کا حل شامل ہے۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ گزشتہ سال بھی مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنا دیا اور ان سے مذاکرات ہوئے لیکن انہوں گزشتہ ماہ دوبارہ احتجاج شروع کیا۔وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ وہ حقوق کے حصول کے لیے ہونے والے احتجاج اور دھرنوں کے خلاف نہیں لیکن گوادر دھرنے میں مولانا ہدایت الرحمان نے ریاستی رٹ کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔وزیر داخلہ کے بقول ہوٹلوں میں سیاح اور چینی باشندوں کو یرغمال بنایا گیا اور گوادر پورٹ کو بند کرکے کام کو بند رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے مولانا ہدایت الرحمان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔ تاہم ان کے بعض مطالبات ایران، سندھ اور وفاقی اداروں سے متعلق ہیں۔ ان مطالبات کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی تجویز دی لیکن ’حق دو تحریک‘ نے تجویز نہیں مانی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حق دو تحریک‘ کی جانب سے سمندر کی جانب پیش قدمی کی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قانون توڑے گا گرفتاری ہوگی ،خواہ کوئی بھی ہو۔ گوادر میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنیوالے 18 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان کی جانب سے بھی اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ اور صوبائی وزیر لالا رشید بلوچ نے حکومتی ٹیم کے ہمراہ ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں سے طویل مذاکرات کیے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کی جلد تکمیل کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔بہرحال گوادر کے ماہی گیروں اور سرحد پر تجارت کا مسئلہ بہت دیرینہ ہے ایک تو ٹرالرمافیاعرصہ دراز سے غیر قانونی ٹرالنگ کررہی ہے جس سے براہ راست ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہورہا ہے ۔

گوادر کے باشندوں کے روزگار کا ذریعہ ماہی گیری اور پاک ایران سرحدی تجارت سے وابستہ ہے گوادر جس کی اہمیت معاشی حوالے سے بہت زیادہ ہے مگر افسوس آج بھی گوادر کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں مگر ان کے اپنے جائز قانونی کام کو بھی مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے تو کس طرح وہ خاموش بیٹھے رہینگے کب تک طفل تسلی سے کام لینگے یقینا تشدد کوئی راستہ نہیں مگر مذاکرات کے وقت جو یقین دہانیاں کرائی گئیں ان مطالبات کو توتسلیم کیاجائے مگر افسوس کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد پیشرفت نہ ہوسکی جس کے باعث دوبارہ احتجاج کا راستہ اپنایاگیا۔ اول روز سے یہی بات کی جارہی ہے کہ لوگوں کے وسائل جو آئین کے اندر موجود ہیں انہیں دیے جائیں نہ کہ ان کے حقوق غضب کرکے انہیں احتجاج پر مجبور کیاجائے۔ تشددکسی طرح بھی مسئلے کا حل نہیں ہے لہٰذا گوادر اورمکران ڈویژن میں اس وقت جو مشکل صورتحال لوگوں کودرپیش ہے انہیں حل کیاجائے۔ تاجربرادری، ٹرانسپورٹرز، عوام سب ہی سرحد پر اپنے کاروبارکی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ٹوکن سسٹم کے ذریعے جس طر ح سے منظور نظرافرادکو نوازکر غریبوں سے نوالہ چھینا جارہا ہے اس عمل کو بھی روکاجائے۔ حکومت پہل کرتے ہوئے گوادر کے مظاہرین کے جائزمطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے معمولات زندگی کو بحال کرے اور مطالبات پر عملاََ کام زمین پر بھی ہوتا دکھائی دے تاکہ واضح طورپر محسوس ہوکہ گوادر اورمکران کے لوگوں کی مشکلات کم ہورہی ہیں۔ امید ہے کہ حکومت بلوچستان پہل کرتے ہوئے بہترین کردار ادا کرے گی اور کشیدہ ماحول کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر مثبت انداز میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔