|

وقتِ اشاعت :   January 19 – 2024

پاک ایران کشیدہ صورتحال پر تمام ہمسایہ اور دنیا کے دیگر ممالک کی جانب سے واضح بیانات سامنے آئے ہیں کہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی ایران نے کی ہے اگر انہیں کچھ تحفظات اور خدشات تھے تو وہ سفارتی سطح پر بات چیت کرکے پاکستان کو آگاہ کرتا کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور ایران کے درمیان بعض معاملات پر بات چیت جاری ہے

جس میں سرحد پار دہشت گردی بھی شامل ہے لیکن افسوس کہ ایران نے بغیر کسی معلومات کے تبادلے کے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کیا جس کے بعد ماحول کشیدہ ہوگیا اور پاکستان کی جانب سے ردعمل تولازمی آنا تھا اور دیا بھی گیا اور اس سے حوالے سے واضح معلومات بھی فراہم کی گئیں۔

بہرحال ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے سب اس بات پر متفق ہیں

کہ بات چیت ہی سے مسئلے کا حل نکالاجائے بجائے طاقت کا استعمال کرکے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے حالیہ تناؤ ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی قومی سلامی کمیٹی کو ایرانی ہم منصب سے بات چیت سے آگاہ کریں گے۔بعد ازاں ترجمان وزارت خارجہ نے پاک ایران وزرائے خارجہ کے رابطے کی تصدیق کر دی۔واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت پیغامات کے تبادلے کی بھی تصدیق کی تھی۔

ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے ایرانی سفارت کار سے کہا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات ہیں،

مثبت بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، دہشت گردی سمیت ہمارے مشترکہ چیلنجز کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنما اور اعلیٰ حکام جانتے ہیں کہ حالیہ تناؤ کا فائدہ دشمنوں اور دہشت گردوں کو ہوگا، آج مسلم دنیا کا اہم مسئلہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم بند کرنا ہے۔

ایران کی جانب سے بلوچستان میں حملے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان نے ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔البتہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہورہی ہے اور اس حوالے سے تمام معاملات کو زیر غور لانا ضروری ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

پاک ایران دیرینہ اور دوستانہ تعلقات ہیں دونوں اسلامی برادر ممالک ہیں۔ ایران کی جانب سے مثبت جواب ضروری ہے پاکستان بہترین تعلقات کے لیے کوشاں ہے حملے کے بعد بھی پاکستان نے ایران پر یہ واضح کیا کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔

ہماری طرف سے تمام دروازے بات چیت کے لیے کھلے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی حساس معاملے پر بغیر کسی معلومات کے تبادلے کے حملے سے حالات دوبارہ کشیدہ نہ ہوں۔

پاکستان اب بھی تمام پہلوؤں پر غور کررہا ہے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بھی اپنارہی ہے۔ امید ہے کہ ایران تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اپنے عمل پر غور کرے گا اور مستقبل میں اس قسم کے حملوں سے گریز کرے گا۔