|

وقتِ اشاعت :   March 10 – 2024


ایرانی زیرتسلط “مغربی بلوچستان” میں سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کی پامالی روز اول سے جاری ہے۔ ایران میں بلوچوں کو مکمل طور پر ملک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی اداروں کے بنیادی ڈھانچوں سے خارج کردیا گیا ہے۔بلوچی ثقافت اور بلوچی زبان کی تشہیر ملک کے خلاف غداری تصور کی جاتی ہے اور ایسے عمل سے سفاکانہ طریقے سے نمٹا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ علاقوں میں مستقل طور پر بہت سی فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئی ہیں۔
تہران کے”گَجر” سرکار کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بیرونی ممالک میں مقیم انسانی حقوق کے کارکنان بھی حکومتی نشانے پر ہیں۔ مارچ 2024 کے پہلے ہفتے میں سویڈن میں مقیم سیاسی پناہ کے متلاشی اسماء بلوچ کو ایرانی حکام کی درخواست کی بنیاد پر ایران حوالگی پر غور کیا جارہا ہے۔ اسماء بلوچ کو ایران”ڈی پورٹ” کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ 34 سالہ انسانی حقوق کے کارکن، اسماء بلوچ کا تعلق ایران کے زیر انتظام مغربی بلوچستان کے علاقے خاش سے ہے، وہ صوبہ کرمان کے شہر بام میں پلی بڑھیں اور فی الحال سویڈن میں مقیم ہیں۔
اسماء بلوچ نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے سویڈن بدری کے حوالے سے بتایا کہ سویڈن کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انھیں ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں واپس ایران منتقلی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ بلوچ انسانی حقوق کی کارکن کا کہنا تھا کہ انکی ایران حوالگی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں انہوں نے دیگر یورپی ممالک اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سویڈن کے حکام پر زور دیں کہ انھیں ایران کے حوالے نہ کیا جائے جہاں ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگا۔
مغربی بلوچستان میں بلوچوں کا قتل عام روز کا معمول ہے۔ ایرانی فورسز لائسنس ٹو کِل کے احکامات پر عمل کرتی ہیں۔ جہاں سرعام پھانسیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ فورسز کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے جس سے سینکڑوں افراد مارے جاتے ہیں۔ فائرنگ کے ایسے بے شمار واقعات پیش آئے ہیںجن میں سے چند درج ذیل ہیں
30 ستمبر 2022 کو سیستان بلوچستان کے علاقے زاہدان میں پرتشدد واقعات کے دوران 82 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی فورسز کے ایک اعلیٰ آفیسر کمانڈر کرنل ابراہیم کوچکزئی نے ایک کمسن بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس پر مغربی بلوچستان کے عالم دین مولوی عبدالحمید نے اپنے خطبے میں اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کی۔نماز جمعہ کے بعد نمازیوں کے ایک گروپ نے جائے وقوعہ کے قریب واقع پولیس اسٹیشن کے سامنے پرامن احتجاج کیا۔ اس دوران ایرانی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کھول دی جس کے بعد پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہوا۔پرتشدد مظاہروں کے بعد شہریوں نے سرکاری املاک کو آک لگا کر سڑکوں کو بلاک کردیا۔
اکتوبر 2022 کے تیسرے ہفتے کو ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں سراوان میں ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں کی فائرنگ سے 8 سالہ مونا نقیب بلوچ کی موت ہوتی ہے۔جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے پورے مغربی بلوچستان میں مظاہرے اور ہنگامے پھوٹ پڑے۔ تمام بلوچ علاقوں میں ایک ماہ تک فورسز اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں 182افراد لقمہ اجل بنے۔
اسی نوعیت کا ایک اور تیسرا واقعہ بھی پیش آیا۔ 24 نومبر 2022 کو ایرانی فورسز نے 7 سالہ بلوچ بچی ہستی ناروئی کو قتل کردیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ایران نے کہا کہ ایران کی بلوچ اقلیت سے تعلق رکھنے والی 7 سالہ ہستی کو زاہدان میں ایرانی فورسز نے قتل کردیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق وہ کم از کم 43 بچوں میں سے ایک ہے جو ایران میں 30 ستمبر سے ایرانی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔
ایران میں بلوچوں کی طرح کرد بھی دوسری درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں جہاں آئے روز انہیں فورسز کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کردوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی بے شمار واقعات پیش آئے۔ 16 ستمبر 2022 کو ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والی کرد لڑکی مہساامینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ بائیس سالہ مہسا امینی کو ننگے سر بازار میں گھومنے پر ایرانی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ مہسا امینی ایک کرد لڑکی تھی اور وہ سر کو ڈھانپنے کے کلچر کو پسند نہیں کرتی تھی۔ واضح رہے کہ ایران میں حقوق نسواں نام کی کوئی چیز نہیں۔ خواتین کو سیاسی اور سماجی آزادی بالکل بھی نہیں ہے۔ تہران کے “علامہ” اور اسلام آباد کے ‘‘سرکاری مولوی’’ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسلام آباد والے ” مٹی پاؤ” والی سوچ رکھتے ہیں جبکہ تہران والے “کینہ” پرور اور “بدلہ پرست” ہوتے ہیں۔ اور وہ عورت کو ایک “ٹیبو” سمجھتے ہیں۔ خواتین کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوتی کیونکہ عورت کی طاقت ایک حقیقت ہے جس سے انہیں خوف آتا ہے۔
مہسا امینی کی موت نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔ ایران کے تمام شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ایرانی فورسز کو ہنگاموں پر قابو پانے کے لئے کریک ڈاؤن کرنا پڑا جس کے نتیجے میں 448 مظاہرین کی جان چلی گئی۔ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ (آئی ایچ آر) کاکہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے 448 افراد میں سے 60 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ان میں 9 لڑکیاں اور29 خواتین بھی شامل تھیں۔بالآخر اس سانحہ نے دنیا کو جنھجوڑکررکھ دیا۔ ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے درمیان انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر تہران کو اقوام متحدہ کی خواتین کمیشن سے نکال دیا گیا۔
اسی طرح گزشتہ برس 2023 میں 800 سے زیادہ افراد کو پھانسی دی گئی جو ایران میں 2015 کے بعد سزائے موت پانے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں سزائے موت ایک حیران کن سطح تک پہنچ گئی ہے ۔2023 میں سزائے موت پانے والوں میں کم از کم 22 خواتین بھی شامل تھیں جبکہ 167 بلوچوں کو بھی پھانسی دی گئی ۔ اس سے پہلے 2022 میں ایرانی حکام نے 500 سے زائد افراد کو سزائے موت دی تھی جبکہ رواں سال دو ماہ کے دوران آئی ایچ آر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران اب تک کم سے کم 83 افراد کو موت کی سزائیں دے چکا ہے۔
ایران میں ایک مسلک کی بنیاد پر حکومت چلتی ہے جبکہ اکثریتی بلوچ آبادی کا تعلق “سنی” مسلک سے ہے۔ حالانکہ بلوچ کو مسلک کی عینک سے دیکھنا غیر انسانی عمل ہے۔ ایران میں “گجر” نسل اور بلوچ اپنی الگ الگ قومی شناخت رکھتے ہیں۔ مغربی بلوچستان میں “بلوچ” قوم اپنی ایک الگ زبان، کلچر، تاریخ اور سرزمین رکھتی ہے۔ اس تناظر میں ایرانی سرکار کو “مسلک” سے بالاتر سوچ رکھنے کی پالیسی اپنانی ہوگی جس سے ایرانی ریاست مستحکم ہوسکے گی وگرنہ “گرتی ہوئی دیواروں” کی مانند کمزور اور کھوکھلی ریاست ہوگی۔ ایرانی حکمرانوں کے “مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل” کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک بلوچ اور کرد اقوام سمیت شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کو مساوی حقوق نہیں دیے جاتے۔ عوام کی طاقت کے بغیر جنگ جیتنا ممکن نہیں۔ اس وقت ایران کی اندرونی صورتحال جنگ کی اجازت نہیں دیتی۔ مٹھی بھر “علامہ” کے ساتھ جنگ جیتنا “احمقوں کی جنت” میں رہنے کے مترادف ہوگا۔ جبکہ بلوچ اور کردوں کو مساوی حقوق دینا کوئی احسان والی بات نہیں بلکہ دونوں اقوام اپنی صدیوں پرانی سرزمین پر رہتی ہیں جس پر ایرانی حکمرانوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
ایران میں بلوچ تحریک کی قیادت سنی عالم دین کرتے ہیں جن میں مولوی عبدالحمید ،مولانا عبدالغفار نقشبندی سمیت اور دیگر شامل ہیں۔ جبکہ مغربی بلوچستان کے مذہبی حلقے مشرقی بلوچستان (پاکستانی بلوچستان) کے مذہبی حلقوں سے زیادہ قوم پرستانہ سوچ رکھتے ہیں۔ایرانی بلوچستان کے عالم دین پاکستانی بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اور وہ کھل کر پاکستانی بلوچستان کے بلوچوں کی حمایت کرتے رہتے ہیں جو ایک قابل ستائش عمل ہے۔ جبکہ پاکستانی بلوچستان کی قوم پرست تنظیمیں اور پارلیمان پسند جماعتیں ایرانی بلوچستان کے بلوچوں پر ایرانی حکام کے مظالم کے خلاف کھل کر سامنے نہیں آتیں بلکہ اکثر و بیشترخاموشی اختیار کرتی ہیں۔ تاہم یہ عمل بلوچ قوم کی اجتماعی سوچ کے برخلاف ہے۔
کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں بلوچ خواتین پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تو اس کے خلاف کوہ سلیمان سے لے کر ہلمند، شال سے لے کر مکران اور کراچی سے لے کر سیستان تک بلوچ قوم نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ پوری بلوچ قوم نے اپنی “سرزمین” پر ہڑتالیں کیں اور احتجاجی ریلیاں نکالیں اور احتجاجی بیانات جاری کئے۔ جس میں اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے قومی “اجتماعیت” کا مظاہرہ کیاگیا۔ کچھ علاقوں میں “مکران سے ڈی جی خان بلوچستان بلوچستان!” ” کے نعرے کے بجائے ” ڈی جی خان سے سیستان بلوچستان بلوچستان!” کے نعرے بھی سننے کو ملے۔یہ نعرے “از خود” بلوچ قوم نے لگائے ۔ یہ نعرے ان کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان نعروں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بلوچ چاہے مغربی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہوں یا مشرقی بلوچستان سے۔ وہ یکمشت اور یکجا ہیں اور مستقبل میں بھی یکمشت اور یکجا ہی رہیں گے۔ ان کی خونی، تاریخی، ثقافتی اور سرزمینی رشتے تاحیات قائم و دائم رہیں گے۔
اگر بلوچ قوم کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ہمارے سامنے بلوچ قوم کی ایک خاصیت یہ نظر آتی ہے کہ بلوچ قوم اپنی لیڈر خود ہے اور یہ خود ہی اپنی لیڈر شپ چنتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ خود انہیں مسترد بھی کرتی ہے۔ کیونکہ بلوچ قوم کی سوچ کا معیار کافی بلند ہے۔ اور اس معیار پر اترنے والی لیڈر شپ کو اپنا لیڈر تسلیم کیا جاتا ہے ۔لیڈر کے کردار پر بلوچوں کی گہری نظر ہوتی ہے یعنی لیڈر شپ کو ایک احتسابی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ جیسے ہی لیڈر شپ کا سیاسی موقف گراوٹ کی طرف جانے لگتا ہے تو وہ اس لیڈر شپ کو فوری طورپر مسترد کردیتے ہیں۔