کوئٹہ: ایمر جنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینٹر انعام الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں انسداد پولیو کی سات روزہ مہم بروز پیر28اکتوبر سے شروع ہو گی،
یہ انسدادپولیو مہم صوبے میں ظاہر ہونے والے حالیہ پولیو کے کیسز اور ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے پیش نظر شروع کی جارہی ہے۔مہم کے دوران26لاکھ55ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے اور مہم کے دوران بچوں کو وٹا من اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کی یہ مہم بلوچستان بھر میں شروع کی جارہی ہے۔
مہم کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔انہوں نے تمام والدین سے اپیل کی کہ صوبے میں پولیو کیس کی موجودگی کی وجہ سے والدین اس خصوصی مہم میں پولیو ٹیم کے ساتھ اپنے تعاون کو یقینی بنائیں کیونکہ اس مہم کا مقصد حالیہ پولیو وائرس کی موجودگی کی بناپر کیا جا رہا ہے۔
پولیو وائرس بلوچستان بھر میں موجود ہے اگر والدین بچوں کو قطرے نہیں پلائیں گے تو وائرس بچوں کو عمر بھر کے لئے معذور کر سکتا ہے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں پانچ سال سے کم عمر کے اپنے تمام بچوں کو پولیوکے قطرے ضرور پلائیں، اگر ان کا کوئی بچہ پولیو کے قطرے پلانے سے بچ جائے تو ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
انعام الحق نے کہا کہ ماحول میںپولیو وائرس کی موجودگی کے باعث پولیوکی اس مہم کا آغا ز کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، اساتذہ اور علماکرام خصوصی طور پر اس مہم میں اپنے تعاون کو یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ بلوچستان میں تین سالوں کے بعد اس سال 21 پولیوکے کیسز چمن،ڈیرہ بگٹی، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، جھل مگسی، ژوب،قلعہ سیف اللہ ، پشین ، لورالائی، نوشکی اور خاران میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز نے ہرطرح کے سخت ترین موسمی حالات کے باوجود قومی فریضہ کی ادائیگی میں اپنے فرائض احسن طریقے سے نبھائے ہیں،
معمول کے حفاظتی ٹیکہ جاتی نظام کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جارہا ہے۔انعام الحق نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران11 ہزار562کے قریب ٹیمیں حصہ لیں گی۔جن میں 9ہزار265 موبائل ٹیمیں،934فکسڈسائٹ او ر593ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔