بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں موسم سرما کی بارشوں کا آغاز ہوگیا ہے اور آئندہ چند روز میں صوبے کے مختلف اضلاع میں بارش کے ساتھ برفباری کا بھی امکان ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔
بلوچستان کے سرد علاقوں میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی سوئی گیس غائب جبکہ گیس پریشر میں کمی کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔
کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں موسم سرما کے دوران گیس پریشر انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیںاور سردی سے بچاؤکیلئے متبادل ایندھن کے استعمال پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بلوچستان میں گیس کی عدم فراہمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے خاص کر موسم سرما میں تو گیس بالکل ہی غائب رہتی ہے جس سے شدید سردی کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، گھریلو کام متاثر ہوتے ہیں۔
موسم سرما کے دوران گیس کی فراہمی کے حوالے سے گیس حکام کے تمام تر دعوئوں کے باوجود سرد علاقوں میں کم گیس پریشر کا مسئلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے۔
گیس پریشر میں کمی کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع کے شہریوں کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران اس میں مزید شدت آئی ہے۔
کوئٹہ کا شمار بلوچستان کے سردترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں نومبر سے مارچ تک شدید سردی پڑتی ہے،دسمبرتافروری کے مہینوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرجاتا ہے، ایسے میں شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا کر نا پڑتاہے۔
گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کمرشل صارفین، ہو ٹل اور تندور مالکان بھی اس مسئلہ سے بری طرح متا ثر ہوتے ہیں جب کہ اسپتال بھی کم گیس پریشر کی زد میں آجاتے ہیں، جہاں مریض شدید سردی میںٹھٹھرتے ہیں۔
سوئی گیس کمپنی کی جانب سے اب تو گیس کنکشن ہی نہیں دی جارہی اور جہاں گیس کنکشن موجود ہے وہاں گیس دستیاب نہیں۔
سرد موسم میں گیس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے سوئی گیس کمپنی کی جانب سے صارفین کی سہولت کیلئے کوئی خاص انتظام نہیں کیا جاتا بلکہ مزید اذیت میں انہیں مبتلا کیا جاتا ہے ۔
گیس کے بھاری بھرکم بلز صارفین کو بھیجے جاتے ہیں مگر گیس فراہم نہیں کی جاتی۔ شہری سردی سے بچاؤ اور معمولات زندگی چلانے کیلئے لکڑی کے استعمال پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ لکڑی کی قیمت میں بھی سرد موسم کے دوران ہوشربا اضافہ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی بڑا المیہ ہے کہ ایک طرف موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کیلئے درخت لگانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں جبکہ سردی کے دوران جنگلات میں درختوں کی کٹائی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔
صارفین کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام سے سرد موسم کے دوران یہی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے سرد علاقوں میں کم گیس پریشرکا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیاجائے تاکہ گیس صارفین کو مشکلات سے نجات حا صل ہو سکے مگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
بلوچستان اسمبلی کے فلور پر بھی سوئی گیس کی عدم فراہمی، کمپنی اور مینیجمنٹ کے رویہ کے خلاف متعدد قرار دیں پاس ہوئی ہیں مگر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔
سرد موسم کے دوران گیس کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے، شاہراہوں کی بندش معمول بن جاتی ہے اس کے باوجودکہ صوبے کی اپنی گیس اس کے شہریوں کو فراہم نہیں کی جاتی۔
بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے دیگر صوبوں کے بڑے شہر اور صنعتیں چل رہی ہیں مگر یہاں کے عوام اس رحمت سے محروم ہیں ۔
وفاقی حکومت بلوچستان میں گیس کی فراہمی کے دیرینہ مسئلے کو حل کرکے یہاں کے عوام پر کرم فرمائے تاکہ سرد موسم کے دوران انہیں اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کیلئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو موسم سرما کے دوران بغیر تعطل کے گیس کی فراہمی کیلئے پابند کرنے کے ساتھ گیس کے استعمال کے حوالے سے آگاہی کیلئے اشتہارات کا اجراء بھی کیا جائے تاکہ گیس ہیٹرجلانے کے دوران حادثات رونما نہ ہوں جس سے ہر سال قیمتی جانیں جاتی ہیں جبکہ گیس سلنڈر بھی شہریوں کے لیے بم کا کام کرتے ہیں۔
سرد موسم کے دوران گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعات بہت زیادہ رونما ہوتے ہیں، ناقص گیس سلنڈروں کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے اور رہائشی علاقوں میں گیس سلنڈر کے کاروبار پر بندش لگائی جائے تاکہ حادثات رونما نہ ہوں۔