|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2024

ملکی معیشت اس وقت چیلنجز کا شکار ہے، گوکہ معاشی صورتحال میں بہتری آرہی ہے مگر یہ نہیں کہ سارے مسائل حل ہوگئے ہیں۔

اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان جاری ہے، تاہم اہم اصلاحات ناگزیر ہیں جس میں نجکاری اور ٹیکس اہداف کی وصولی شامل ہے، جس پر حکومت کام کررہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا معاہدہ آگے بڑھے اور آئی ایم ایف کو کوئی تحفظات نہ ہوں۔

بیرونی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مہنگائی کی شرح میں بھی کمی ہو رہی ہے لیکن عام لوگوں تک اس کے ثمرات پہنچانے کیلئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ عوام اس وقت بدترین مالی مسائل سے دوچار ہیں، اور وہ قلیل آمدن کے ذریعے اپنی زندگی کا پہیہ چلارہے ہیں۔

حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ عام لوگوں کو ہر صورت ریلیف فراہم کرے گی جسے اعلانات و بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس پر عملدرآمد ہوتا ہوا دکھنا بھی چاہئے، خاص کر عام مارکیٹوں میں سرکاری نرخنامہ پر عمل نہیں ہو رہا، مافیاز من مانی قیمتوں میں اشیاء خورد و نوش سمیت دیگر چیزیں فروخت کر رہے ہیں جس کا شکوہ عوام آئے روز کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ بھی کرتی ہے کہ قیمتوں کے اطلاق پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

بہرحال موجودہ معاشی صورتحال پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں آنے سے سارے مسائل حل نہیں ہو جائیں گے بلکہ پروگرام کے اہداف بھی حاصل کرنا ہوں گے۔

رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کم ہونا شروع ہوئی ہے اور اب عوام کو اس کے ثمرات پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی ہوئی تو ملک میں بھی چیزیں سستی ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اب قیمتوں میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی اور توانائی کی اصلاحات پر عمل درآمد کرکے دکھانا ہو گا۔ نجکاری کے متعلق آئی ایم ایف کے اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔ رائٹ سائزنگ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

معاشی کمزوریاں اور نقائص دور کرنے میں اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ہم 25ویں آئی ایم ایف پروگرام میں آگئے لیکن کئی پروگرام میں کرنے والے کام نہیں کیے۔ ملک میں بڑھتی آبادی کا بوجھ ہر معاشی حکمت عملی کو ناکام کر رہا ہے اور اگر بچے غذائیت میں عدم تحفظ کا شکار ہیں تو معاشی ترقی مستحکم نہیں ہوسکتی۔

اگر بچے اسکول نہیں جا رہے تو اقتصادی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں پر 10 سال کا پروگرام لا رہے ہیں۔

بہرحال اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ اب تک آئی ایم ایف پروگرام سے ہی ملکی معیشت چلتی رہی ہے لیکن اب ریاستی سطح پر معاشی اصلاحات اور مستقل پلاننگ کی ضرورت ہے جو کم از کم 10 سال پر محیط ہونی چاہئے اور اس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔

جبکہ یہاں ہوتا یہ ہے کہ بدقسمتی سے جب نئی حکومت آتی ہے تو اس کی ترجیحات میں انتقامی کارروائی اور معاشی پالیسی میں ردوبدل ہوتی ہے جس کا نقصان ملکی معیشت کو ہوتا ہے۔

لہذا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو معاشی پالیسی پر ایک پیج پر ہونا چاہئے اور حکومت کو بھی تمام اسٹیک ہولڈرز سمیت معاشی ماہرین کے ساتھ ملکر معاشی پالیسی کو بہتر سمت دینا چاہئے جس سے یقینا معاشی صورتحال میں مستقبل میں بہتری آئے گی اور بحرانات سے نکلنے کے ساتھ آئی ایم ایف سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔