|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2024

بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں کے معدنی وسائل سمیت دیگر اہم منصوبوں سے کمپنیاں اور وفاقی حکومت مالی فائدے اٹھاتی ہیں مگر بلوچستان کو اپنے ہی حصہ سے محروم رکھا جاتا ہے ۔
بلوچستان کو اگر اپنے وسائل سے جائز محاصل مل جائیں تو بلوچستان حکومت اپنے بجٹ سے بڑے منصوبے شروع کرسکتی ہے جس سے بلوچستان میں صنعتیں لگ سکتی ہیں، تجارت میں اضافہ ہوگا، روزگار کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہونگے ،بلوچستان کے انفراسٹرکچر میں بڑی تبدیلی رونما ہوگی لیکن یہ سب اب تک ایک خواب ہے کیونکہ صوبے کے وسائل کی لوٹ مار جاری ہے اور اس کے تھمنے کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آتے ۔
اول روز سے بلوچستان اور وفاقی حکومتوں، کمپنیوں کے درمیان مالی و انتظامی معاملات کا تنازعہ رہا ہے، کمپنیوں کی اہم پوسٹوں پر تعیناتی سمیت ملازمتوں پر بھی بلوچستان حکومت کے تحفظات رہے ہیں جنہیں ہر فورم پر اٹھایا جاچکا ہے مگر بلوچستان کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا۔
اس کے باوجود بھی بلوچستان حکومت نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزراء اعظم، وفاقی کابینہ کے سامنے معاملات اٹھائے تاکہ بلوچستان کو اس کا جائز حق مل سکے اورجو میگا منصوبوں سمیت دیگر سرمایہ کاری کی جارہی ہے بلوچستان کو بطور اسٹیک ہولڈر تمام حقوق دیئے جائیں۔
بہرحال گزشتہ روز پی پی ایل لیز معاہدے کی توسیع اور شیئر نہ ملنے پر بلوچستان حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان بلو چستان حکومت شاہد رند نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ و زیر اعلیٰ بلو چستان کی صدرات میں ہونے والے صو بائی کابینہ کے اجلاس میں پی پی ایل لیز توسیع معاہدے سے متعلق غیر سنجیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، صوبائی حکومت اور پی پی ایل کے مابین معاہدہ تقریباً پندرہ سال سے ایکسپائر ہوچکا ہے، اس دوران پی پی ایل نے لگ بھگ ایک سو ارب روپے سے زائد کمائے ، صوبائی حکومت کو حصہ نہیں دیا ،پی پی ایل سے متعلق تحفظات کا معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ترجمان بلو چستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس عزم کو دہرایا کہ معاملات کو وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ شائستگی کے ساتھ اور بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔
وزیر اعلٰی بلوچستان نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اگر اجلاس کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو اسمبلی اور کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرکے معاملہ کو زیر غور لایا جائے گا۔
حقیقت تو یہ ہے کہپی پی ایل گزشتہ کئی برس سے بلوچستان سے بھرپور مالی فائدہ اٹھارہی ہے ساتھ ہی اہم پوسٹوں اور ملازمتوں میں بھی بلوچستان کو نظر انداز کر رکھا ہے، یہ صرف ایک کمپنی کی مثال سامنے ہے دیگر بڑی کمپنیاں بھی اربوں روپے بلوچستان سے منافع کما رہی ہیں مگر بلوچستان آج بھی اپنے ہی وسائل اور محاصل سے محروم ہے اس کا ازالہ موجودہ وفاقی حکومت کو کرنا چاہئے۔
بلوچستان حکومت اس وقت بھی وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے وفاقی حکومت بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرے، کمپنیوں کی لیز کی توسیع سمیت دیگر معاہدے بلوچستان حکومت کو کرنے دے کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی معاملہ ہے لیکن ہمیشہ کی طرح وفاق بلوچستان کوکوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔
لہذا وفاق اپنے آمرانہ رویے پر نظر ثانی کرے ،کمپنیوں کو متعلقہ علاقے میں روزگار کی فراہمی سمیت ترقیاتی منصوبوں میں اپنا حصہ ڈالنے کا پابند کیا جائے جن سے بلوچستان کے عوام براہ راست مستفید ہوسکیں۔