بانی پی ٹی آئی نے احتجاج کو ہی اپنی سیاست کا مقصد بنالیا ہے جس میں تشدد کا عنصر حاوی ہے۔
9 مئی اور 24 نومبر کے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کا راستہ اپنایا گیا مگر اب اس احتجاجی سیاست سے پی ٹی آئی کے بیشتر رہنماء نالاں ہیں۔
اندرون خانہ پی ٹی آئی تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتی جارہی ہے پار ٹی کی پالیسی لائن مکمل ابہام کا شکار ہے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور بہنیں الگ بیانیہ سامنے لاتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کا سیاسی لائن بیانیہ سے بالکل ہی الگ ہے مگر بانی پی ٹی آئی بھی واضح طور پر پارٹی کو لیڈ کرنے کے حوالے سے مکمل ذمہ داری کسی کو دینے کو تیار نہیں ۔
اسی ابہام جیسی پالیسی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اپنی جماعت کے ساتھ مختلف طریقوں سے کھیل رہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی اپنی رہائی اور اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں اس لاڈ کی وجہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ ہے اور بانی پی ٹی آئی دوبارہ انہی بیساکھیوں کے سہارے اپنی واپسی چاہتے ہیں مگراب کے بارا سٹیبلشمنٹ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی صورت بات کرنے کو تیار نہیںاور اس حوالے سے ایک سخت گیر موقف رکھتی ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی مرضی و منشاء سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سوشل میڈیا پر بدترین مہم چلائی جارہی ہے جبکہ تشدد کی پالیسی بھی اس کا حصہ ہے۔
ان تمام تر عوامل کے باوجود بانی پی ٹی آئی اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہورہا ہے اور پارٹی رہنماء آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی نے اب سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے کتنی تعجب کی بات ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کی ناکامی اور پارٹی رہنماؤں کی عدم شرکت کے باوجود بھی سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ مضحکہ خیز ہے۔
بہرحال بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ان کی بہن علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کے دو مطالبات میڈیا کے سامنے رکھے۔
گزشتہ روز اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دو مطالبات رکھے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کے ماتحت جے آئی ٹی بنائی جائے جو 9 مئی اور 26 نومبر کے سانحات کی تحقیقات کرے اور تمام گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے۔
دوسرا یہ کہ اگر اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے لیے آفر دیتی ہے تو پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی، اگر مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو بانی پی ٹی آئی سول نافرمانی کا آغاز کر دیں گے۔
گزشتہ روز بیرسٹر گوہر سے ہونے والی تلخ کلامی پر علیمہ خان کا کہنا تھا میرا اعتراض ہے کہ صرف 12 لوگ شہید نہیں ہوئے، بہت سے لوگ لاپتہ ہیں جیلوں میں ہیں، ان کے والدین پوچھ رہے ہیں، ہم سیاسی طور پر نہیں انسانیت کے طور پر ان کا پیچھا کر رہے ہیں، مجھے اس پر غصہ ہے کہ کئی لوگ لاپتہ ہیں، لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ علیمہ خان کی کمرہ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا کے ساتھ پی ٹی آئی کے اسلام آباد دھرنے میں ہونے والی ہلاکتوں پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔
بہرحال یہ بات قابل غور ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے دوران جتنے کارکنان کے لاپتہ اور ہلاکتوں کا دعویٰ کیا جارہا ہے اس حوالے سے کوئی بھی ٹھوس شواہد اب تک پی ٹی آئی سامنے نہیں لائی ہے ،پہلے سینکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ،پھر درجنوں تک آگئے، اگر واقعی لوگ مارے گئے ہیں تو ان کے اہلخانہ بے خبر ہیں؟ لاوارث کارکنان تھے؟ ایسے درجنوں سوالات قانونی طور پر موجود ہیں مگر پی ٹی آئی کی پالیسی منفی بیانیہ بنانا ہے جس کی تشہیرکر کے گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلانا اور انتشاری سیاست کو ہوا دینا ہے مگر اب احتجاجی سیاست کی ہوا نکلتی جارہی ہے ، گراؤنڈ پر موجود پی ٹی آئی کے اہم رہنماء اس احتجاجی سیاست سے بیزار و تنگ آچکے ہیں ،سول نافرمانی کی تحریک بھی ہوا کا غبارہ ثابت ہوگی مگر بانی پی ٹی آئی زعم میں مبتلا ہیں کہ اس اعلان سے دباؤ بڑھے گا ،ریلیف ملے گا جس کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس تحریک کا آغاز ہونے سے قبل ہی اختتام ہوگا کیونکہ بیشتر پی ٹی آئی رہنماء اس احتجاج کی مخالف سمت پر کھڑے دکھائی دینگے۔