|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2024

ملک بھر میں سوشل میڈیا سروسز بدستو ر سْست روی کا شکار ہیں جس کے باعث ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے صارفین کو واٹس ایپ اور دیگر ایپس پر تصاویر، ویڈیوز، وائس نوٹ بھیجنے اور وصول کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
دوسری جانب وائی فائی اور موبائل ڈیٹا سروس متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق سست انٹرنیٹ سے ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
آئی ٹی ماہرین کا بتانا ہے کہ پاکستان کا عمومی طور پر ٹیلی کام سیکٹر کا منافع 3 ارب روپے یومیہ ہے، ٹیلی کام سیکٹر کا 60 سے 70 فیصد یومیہ منافع تھری جی اور فور جی نیٹ ورک سے جڑا ہے۔
انٹر نیٹ کی سست روی کے باعث آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کی بڑی تعداد ذہنی کوفت کا شکار ہے کیونکہ وہ کوئی چیز نہ فروخت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی آرڈر وصول کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی پیمنٹ ٹرانسفر کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق صرف آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروبار کو وسعت دیا جارہا ہے کمپنیوں سے لیکر گھر بیٹھے نوجوان اپنا آن لائن کاروبار کررہے ہیں، ملازمت سے زیادہ اب لوگ آن لائن کاروبار کو ترجیح دے رہے ہیں جس میں سرمایہ کم جبکہ منافع زیادہ ملتا ہے۔
دوسری جانب آن لائن کلاسز لینے والے اسٹوڈنٹس کی پڑھائی بھی متاثر ہورہی ہے، ملک کا پورا نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے ،کاروبار سے لیکر معمولات زندگی تک سبھی کچھ متاثر ہے۔
اس جدید دور میں ہر شعبے کا کام ٹیکنالوجی سے جڑا ہے اگر انٹرنیٹ کی رفتار اسی طرح سست رہے گی تو کاروبار پر تو اس کے انتہائی منفی اثرات پڑینگے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے معاملے کو سنجیدہ لے تاکہ کاروبار سمیت عام صارفین کی مشکلات کم ہوسکیں۔
اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہاتو اس سے حکومت کو بڑامالی نقصان اٹھانا پڑے گا ،کاروبار کی بندش سے اربوں روپے نقصان موجودہ معاشی حالات میں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا جبکہ بڑی کمپنیاں کاروبار کو دیگر ممالک منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ حکومت کا کام سہولت فراہم کرنا ہے نہ کہ لوگوں کو اذیت دینا۔ لہذا سنجیدگی کے ساتھ انٹرنیٹ کی سست روی و خلل کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔