شام میں اسد خاندان کا پچاس سال سے زائد کادور اقتدار ختم ہوگیا ہے، دمشق پر باغیوںنے قبضہ کرکے سرکاری ٹی وی،ریڈیو اور وزارتِ دفاع کی عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
صدر بشار الاسد کی 24 سالہ حکومت ایک ہفتے میں گرگئی، بشار الاسد کی ہلاکت اور گمشدگی کی خبروں کے بعد روسی ذرائع نے بشار الاسد کے ماسکو پہنچنے کا دعویٰ کیا۔
روسی ذرائع کے مطابق روس نے معزول صدر کو اہل خانہ سمیت سیاسی پناہ دی ہے۔
دوسری جانب شام میں سرکاری فوج کا علاقہ چھوڑنے پر لوگوں نے سڑکوں پر جشن منایااور صدارتی محل میں لوٹ مار بھی کی گئی جس کے بعدباغیوں نے دمشق میں کرفیو لگادیا۔
شام میں ہونے والی غیریقینی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی فوج شام میں داخل ہوگئی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر تے ہوئے بفرزون میں بھی اسرائیلی فوج تعینات کردی۔
اسرائیل کی جانب سے شام کے مختلف مقامات پر بمباری بھی کی گئی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے شام کی صورتحال پر ردعمل میں کہا ہے کہ شام میں بلآخر بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہوچکا۔وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نہیں جانتے کہ بشارالاسد کہاں ہیں، سنا ہے وہ ماسکو میں ہیں، بشار الاسد کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ اقتدار کی منتقلی کیلئے شامی گروپوں سے مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ شام کے پڑوسیوں کی حمایت کریں گے، آئندہ دنوں میں علاقائی رہنماؤں سے بات کریں گے اور امریکی حکام بھی بھیجیں گے۔
امریکی صدر نے باغی گروپ کے لیڈر کے بیان کو نوٹ کیا ہے، ان کے قول و فعل کا جائزہ لیں گے، شام میں خطرے اور غیریقینی صورتحال کا لمحہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے شام کی تازہ صورت حال پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اقوام متحدہ میں درخواست دے دی ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فوری طور پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلالیا جائے گا۔
ان کاکہنا تھا کہ اسرائیل کے گولان کی پہاڑیوں پر قبضے اور وہاں اقوام متحدہ کی غیر فوجی علاقے (بفر زون) پر بات کرنا ضروری ہے۔
بہرحال شام میں حالیہ غیر معمولی تبدیلی سے خطے میں اس کے اثرات ضرور پڑینگے ۔
ایکدم سے باغیوں کی فتح حیران کن ہے مگر اس میں اہم پہلو جمہوریت ہے، شام میں طویل آمرانہ دور رہااور اندرون خانہ سخت گیر پالیسیاں رہیں ۔
جب عوام حکومت کے ساتھ کھڑی نہیں رہتی تو ریاست خود کو کسی بھی طاقت سے بچا نہیں سکتی، جمہور کی طاقت سے ہی بڑے خطرات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جو بشار الاسد کو حاصل نہیں تھی ۔
اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شام میں تبدیلی اور باغیوں کی طاقت کے پیچھے بڑی قوتیں بھی کسی نہ کسی طرح موجود ہیں۔
اب شام کے اندر اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے ایک اور عالمی کھیل کا آغاز ہوگا جو مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر علاقائی استحکام کے لیے شام میں امن و سلامتی کو فروغ دینا ضروری ہے۔
عالمی برادری سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کو شام میں ایک خود مختار جمہوری حکومت کے قیام پر زور دینا ہوگا اگر مفادات کو فوقیت دی گئی تو شام میں استحکام نہیں آئے گا اور خطے سمیت عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا پاور گیم شروع ہوگا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔
شام میں اسد خاندان کی طویل آمرانہ دور کا خاتمہ، شام میں عالمی سیاسی پاور گیم کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے!

وقتِ اشاعت : December 10 – 2024