بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے خطیر رقم مختص ہونے کے باوجود بھی منصوبے تاخیر کا شکار رہتے ہیں جس سے شہریوں کو فوائد کی جگہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بلوچستان میں بنیادی مسائل کے حل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے جو عوامی مفاد کے ہیں ان پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا زیادہ ضروری ہے۔
بلوچستان میں ترقیاتی کاموں میں سست روی اور کرپشن بڑے مسائل ہیں، ماضی میں بھی متعدد منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی خبریںرپورٹ ہوچکی ہیں ۔
ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے وزراء کو زیادہ متحرک ہونا چاہئے، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز سے رپورٹ لینے کی بھی ذمہ داری لینی چاہئے صرف وزیراعلیٰ بلوچستان پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی ،پوری کابینہ ایک ٹیم کے طورپر دن رات محنت، ایمانداری اور مخلصانہ کردارکے ذریعے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ ملکر کام کرے گی تو پہاڑ جیسے مسائل بھی حل ہونگے ۔
بلوچستان میں تیز ترین ترقی کی ضرورت ہے جتنی رقم پی ایس ڈی پی میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کی جاتی ہے ان پر منصفانہ طور پرعملدرآمد کیا جائے تو بلوچستان کے عوام بہت سارے منصوبوں سے مستفید ہوسکتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ منصوبوں کی تکمیل پر توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بلوچستان پسماندگی اور محرومی کا شکار ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے صوبے کی ترقی کیلئے اہم اور ہنگامی اقدامات قابل ستائش ہیں اور اس پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کوئی کمپرومائز نہ کرنے کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی ترقیاتی پروگرام 25۔
2024 پر پیش رفت اجلاس کے دوران اب تک کم ترقیاتی بجٹ استعمال میں لانے والے محکموں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں کو ہر صورت مقررہ وقت تک مکمل کریں۔
ہم نے 210 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو عوام پر خرچ کرنا ہے۔ اگر پلاننگ کمزور ہوگی تو مقررہ ہدف کا حصول ممکن نہیں ہوگا ،تمام ترقیاتی منصوبوں پر آئندہ مالی سال کے اختتام سے قبل ہی فزیکل پراگریس ہونی چاہیے۔ انہوں نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے حکمت عملی تبدیل کریں اور روزانہ کی بنیاد پر منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق رپورٹ کر یں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیکریٹری مواصلات کو ہدایت کی کہ بلوچستان بھر میں 25 اسپورٹس کمپلیکس کو6 ماہ میں مکمل کیا جائے۔ اس منصوبے کے لئے الگ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ کسی کو الزام نہ دیں بلکہ خود ان منصوبوں کی ذمہ داری لیں۔ اگلے ہفتے تک ہر صورت غیر منظور شدہ منصوبوں کو متعلقہ فورم سے منظور کروا کے پیش رفت سے آگاہ کریں۔
سیکریٹری صاحبان پوری تیاری کے ساتھ آیا کریں۔ تعلیم اور صحت ہماری بنیادی ترجیحات ہیں تعلیم اور صحت سے متعلق منصوبوں میں کسی تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر بر وقت عملدرآمد سے اس کے براہ راست ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔
بہرحال 210 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے صحیح استعمال سے صوبے میں مثالی و ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو بہترین سہولیات میسر آئینگے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے صوبے میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل پر ذاتی دلچسپی سے نمایاں بہتری کی امید ہے اس کیلئے کابینہ ارکان، سیکرٹریز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بلوچستان میں موجود مسائل حل ہوسکیں اور صوبہ خوشحالی و ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کا عزم، صوبے میں خوشحالی و ترقی کی امید!

وقتِ اشاعت : December 13 – 2024