|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2024

صدر مملکت آصف علی زرداری کے مدارس رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹی رجسٹریشن بل پر اعتراضات سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ پر 8 اعتراضات اٹھائے ہیں۔
صدر مملکت نے اعتراض کیا کہ بل کے قانون بننے سے مدارس اگر سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوں گے تو ایف اے ٹی ایف اور جی ایس پی سمیت دیگر پابندیوں کا خدشہ ہے، مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے ذریعے شروع کی گئی تو قانون کی گرفت کم ہوسکتی ہے پھر قانون کم اور من مانی زیادہ ہوگی۔
اعتراض میں کہا گیا ہے کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں دینی تعلیم شامل نہیں، سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں فائن آرٹ تعلیم شامل ہے جس میں ڈانس کلاسز، آرٹ کلاسز شامل ہیں۔
صدر مملکت کا اعتراض ہے کہ اگر سوسائٹی رجسٹریشن میں دینی تعلیم اور فائن آرٹ رکھتے ہیں تو تنازع ہوگا، اس سے مختلف نکتہ نظر رکھنے والوں کا تنازع ہوسکتا ہے۔
صدر مملکت نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ بل منظور ہونے سے عالمی سطح پر پابندیوں کا خدشہ ہے۔
صدر نے ارکان اسمبلی کو تجویز دی ہے کہ مدارس سے متعلق بل بنانے کے لیے عالمی سطح کے معاملات کو مدِ نظر رکھا جائے۔
اب یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ صدر پاکستان کے اعتراضات پر حکومت پاکستان نے غور شروع کردیا ہے اور مدارس سے متعلق بل پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراضات لگائے گئے ہیں اور اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو ڈیڈ لائن دی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ 17 دسمبر کو وفاق اور تنظیمات المدارس کا اجلاس 17 دسمبر کو بلایا ہے جس میں لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔
بہرحال حکومت اس معاملے کا درمیانہ حل نکالے تاکہ خوش اسلوبی سے تنازعات ختم ہوسکیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات سے متعلق حکومتی اجلاس میں علما کرام نے مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ ہی منسلک رکھنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ اس اجلاس کے ردعمل میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ علماء کے مقابلے میں علماء کو لایا جارہا ہے۔
بہرحال اب مدارس رجسٹریشن پر کوئی سخت گیر موقف کسی بھی فریق کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے بلکہ بات چیت اور ایوان کے ذریعے مسائل کے حل پر بات کی جارہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ فریقین کسی ایک نقطہ پر پہنچ کر اتفاق کرینگے جو تنازعات کا سبب بھی نہ بنے اور نہ ہی ملک کو عالمی سطح پر کسی پابندی یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔