کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں، بلوچستان میں وزیراعلی کے پاس ایک کانسٹیبل جتنے اختیارات بھی نہیں۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن ابتر ہوتی جارہی ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے نہ مناسب تعلیم ہے نہ روزگار، اور دوسری طرف طلبا کو زبردستی ان کے ہاسٹل سے نکالا جاتا ہے، بی ایم سی کی مثال ہمارے سامنے ہیں
جبکہ بلوچستان یونیورسٹی کے حالت یہ ہے کہ اساتذہ کو تنخواہیں بھی وقت پر نہیں مل پا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیکل طلبا کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان سے ملاقات کرکیاپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہزاروں نوجوانوں کو اغوا کرکے قتل کیا گیا
جبکہ باقی جو نوجوان تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کے سامنے جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ بلوچستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جایا گیا ہے۔ہم بلوچستان کے طلبا اور تمام مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے ہیں
اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر ان کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہم نے بار بار کہا ہے کہ لاپتہ افراد بلوچستان کا بنیادی مسئلہ ہے اور جب تک اسے حل نہیں کیا جاتا یہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ جب تک بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے بلوچستان میں ہتھیاروں کے ذریعے چیزوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔