|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2024

پاکستان نے رواں برس کی آخری انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
انسداد پولیو کی قومی مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی۔
اس مہم کے دوران ملک بھر کے 45 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ممالک ہیںجہاں اب تک ممکنہ طور پر انسانوں کے لیے مہلک اور انہیں زندگی بھر کے لیے مفلوج کر دینے والے پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا۔
ملک بھر میں رواں سال جنوری سے اب تک پولیو کے 63 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے مہم مستقل بنیادوں پر جاری رہتی ہے۔
اس دوران طبی عملے اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔
بعض شدت پسند عناصر پولیو ویکسین کے حوالے سے جعلی خبریں اور افواہیں بھی پھیلاتے ہیں کہ یہ دوا لوگوں کی تولیدی صلاحیتوں کو ختم کرنے کی ایک مغربی سازش ہے۔
رواں سال بھی پولیو مہم کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کی خدشات کے پیش نظر عملے کی حفاظت کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اس کے باوجود خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ ایک پولیو ورکر زخمی ہو گیا۔
صحت عامہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام مطابق 1990 سے اب تک شدت پسندوں کے حملوں میں 200 سے زائد پولیو ٹیم کے اہلکار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے حالیہ انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل طبی عملے سے ملاقات میں ان کی خدمات کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پولیو جیسی مہلک بیماری کے خلاف جنگ میں ضرور کامیاب ہوگا۔
پاکستان میںگزشتہ برسوں کی نسبت رواں سال پولیوکیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ والدین کا پولیو ویکسین پلانے سے انکار ہے جو منفی پروپیگنڈوں کا شکار ہوتے ہیں ۔
یہ ایک خطرناک مرض ہے جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر دیتا ہے، ہمیں اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری اور اس خطرناک بیماری سے بچانے کیلئے اپنا کردار ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگا تاکہ اس خطرناک مرض کا خاتمہ ملک سے یقینی ہو جائے اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
معاشرے کے ہر طبقے کو انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے، علمائے کرام کو جمعہ خطبات کے دوران عوام کو آگاہی دینی چاہئے، سیاسی اورمذہبی جماعتوں، سول سائٹی، میڈیا سب کو اپنے اپنے فورم پر پولیو مہم کے متعلق آگاہی دینے کی ضرورت ہے ،سوشل میڈیا پر شہریوں کو اس مہم سے متعلق اپنا حصہ ڈالنا چاہئے تاکہ پولیو ویکسین کے متعلق منفی پروپیگنڈہ زائل ہوسکے اورپاکستان فری پولیو ممالک میں شامل ہوسکے۔
پاکستان کو اس مہلک بیماری سے بچاؤ کیلئے سرحدی پوائنٹس پر بھی موثر طبی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے خاص کر افغانستان سے منسلک سرحدی پوائنٹس پر جدید آلات کے ساتھ طبی عملے کو تمام تر سہولیات فراہم کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان میں بیشتر کیسز رپورٹ ہونے کی وجہ افغانستان سے وائرس کی منتقلی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں بھی رواں سال کے دوران پولیو کے کم از کم 23 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ رواں سال ستمبر میں افغان طالبان نے ملک بھر میں پولیو کی گھر گھر ویکسینیشن مہم معطل کر دی تھی جس سے اس مرض کے خاتمے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔
پولیو وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے، اور جن بچوں کو پولیو کی ویکسین نہیں لگائی جاتی وہ وائرس کے اثر سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ نتیجتاً یہ وائرس ان بچوں سے دوسرے بچوں تک بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
یہ ہمارے لئے الارمنگ صورتحال ہے ہمیں افغان سرحد پر طبی حوالے سے ہنگامی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ ہمارا ملک پولیو سے محفوظ رہ سکے۔