|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2024

بلوچستان کا مکران ڈویژن تجارتی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل اور گیم چینجر علاقہ ہے، یہ ایران سے طویل سرحدی پٹی سے منسلک ہے جو دہائیوں سے پاک ایران سرحدی علاقوںکے تاجروں اور لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
یہاں انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی سے بڑی معاشی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے خاص کر شاہراہیں تجارتی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں ۔
بدقسمتی سے مکران ڈویژن کے بیشتر علاقوں میں انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی، مواصلاتی نظام اور شاہراہوں کی خستہ حالت سے تجارت سمیت دیگر مسائل کا لوگوں کو سامنا ہے۔
موجودہ حکومت کی جانب سے تربت مند روڈ کی تعمیر کا منصوبہ علاقے میں ترقی و خوشحالی کیلئے انقلابی قدم ہے جس سے سرحدی علاقے مستفید ہونگے۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے تربت مند روڈ کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا۔
19.50 ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہوگا۔
افتتاحی تقریب میں وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں ،منصوبے کے لیے ابتدائی 5 ارب روپے کی رقم جاری کر دی گئی ہے اور تعمیراتی کام ایف ڈبلیو او کی معیاری خدمات کے ذریعے مکمل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے تاکید کی کہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو منصوبے کی نگرانی کرے گی۔
منصوبہ تین سال کی بجائے دو سال میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بلوچستان میں نوجوانوں کی تعلیم پر بھی زور دیا اور اعلان کیا کہ صوبے کے طلباء کو 100 یونیورسٹیوں میں مفت پی ایچ ڈی کروائی جائے گی۔
مزید برآں تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبا کے لئے اگلے سالوں کی تعلیم بھی حکومت مفت فراہم کرے گی۔
بہرحال موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کا جال تیزی سے بچھایا جارہا ہے خاص کر ان علاقوں میں جو پسماندہ ہیں اور وہاں بنیادی مسائل بہت زیادہ ہیں ۔
تربت مند روڈ کی تکمیل سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا مگر اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو پاک ایران سرحدی علاقوں میں تجارت کے حوالے سے تاجر وں اور عوام کو درپیش مسائل پربھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،گزشتہ کچھ عرصے سے تجارتی پوائنٹس کی بندش اور بعض پابندیوں کی وجہ سے مقامی تاجروں اور لوگوں کی معاشی حالت بہت زیادہ متاثر ہے اس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر راستہ نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کا معاشی مسئلہ حل ہوسکے ۔
جب معاشی سرگرمیاں بحال ہونگی تو یقینا عام لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئینگی ،مقامی افراد کو اپنے بچوں کی تعلیم سمیت دیگر مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی اور وہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی پروگرام سے مستفید ہوکر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچیں گے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک روشن مستقبل ملے گا اور وہ صوبے اور ملک کی تعمیر و ترقی میںمرکزی کردار ادا کرینگے ،منفی سرگرمیوں سے دور رہیں گے ،مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب ہونگے جو بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
امید ہے کہ شاہراہوں کی تعمیر کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائینگے تاکہ حکومتی اقدامات پرلوگوں کا اعتماد بحال ہو۔