جعفرآباد:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے انہیں بلوچستان کے تمام اضلاع کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عمر ایوب آئیں انہیں اپنے ساتھ بلوچستان کے ہر ضلع میں لے جانے کے لئے تیار ہوں ، ریاست بہت اہم ہے بلوچستان کو گندی سیاست سے دور رکھیں جعفرآباد کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بیان پر انہیں تعجب ہوا کیونکہ یہ غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت سے بعید ہے
انہوں نے واضح کیا کہ سیاست چمکانے کے لیے ایسے بیانات دینے سے گریز کیا جائے اور بلوچستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی جائے علیحدگی کی باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں یہ محض ایک تاثر ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں حیرت ہے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بلوچستان سے متعلق اصل حقائق کا علم نہیں اسوقت بلوچستان کی یوتھ ڈس انٹی گریٹڈ (متزلزل )ہوررہی ہیآپ ایسے بیانات سے جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے اس بیان کی مذمت کرتا ہوں ہمیں سب سے پہلے ریاست کو دیکھنا ہے سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہے کسی کو بھی سیاسی مفادات کے لئے ریاست کو نقصان نہیں پہچانا چائیے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہمارا مقصد بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح بلوچستان کی سماجی اور معاشی ترقی (سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ) ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ہم نے ترقی کی جانب لے جانا ہے اور اس سفر میں کسی رکاوٹ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے قبل ازیں جعفرآباد کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان سے قبائلی عمائدین اور معتبرین نے ملاقات کی جہاں انہوں نے بگٹی قبائل کے دو فریقین کے درمیان بیس سالہ دیرینہ تنازعہ کو ختم کرتے ہوئے انہیں شیر و شکر کردیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اپنی روایات کا امین صوبہ ہے یہاں کے تمام قبائلی تنازعات باہمی افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ اپنے رسم و رواج کے تحت چلتا ہے سیاسی حیثیت کے ساتھ ہمارا ایک مضبوط قبائلی پس منظر بھی ہے
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بگٹی قبائل سمیت دیگر قبائل کی حمایت سے قبائلی تنازعات کے حل میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے جعفر آباد سے قبل ہم نے سوئی میں قبائلی تنازعات حل کیے الحمدللہ آج جعفرآباد میں ایک 20 سالہ پرانا قبائلی تنازعہ ختم ہوا بلا شبہ امن و استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور قومی یکجہتی ہی بلوچستان کے استحکام کی ضمانت ہے وزیر اعلٰی نے کہا کہ قبائلی تنازعات کے خاتمے کے بغیر بلوچستان میں ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا قبائلی عمائدین کے تعاون سے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ہر ضلع میں بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بلوچستان کے مستقبل کو روشن بنائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ حکومت کے ان اقدامات کا فائدہ عام بلوچستانی کو ہو اس موقع پر صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی، پارلیمانی سیکرٹریز عبدالمجید بادینی، حاجی محمد خان لہڑی، پیپلز پارٹی کے رہنماء میر ساجد دشتی، سابق صوبائی وزیر میر فائق خان جمالی ، سمیت بگٹی قبیلے کے معتبرین بھی موجود تھے۔
Leave a Reply