کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بلوچستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی تاکہ وہ خود آکر صوبے کے زمینی حقائق کا مشاہدہ کریں
اور صورتحال کا براہ راست جائزہ لیں تاہم بجائے اس کے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرتے انہوں نے سیاسی انتشار پر مبنی بیانیہ برقرار رکھا جس سے ان کی غیر ذمہ داری اور آئینی منصب سے ناآگاہی ظاہر ہوتی ہے بدھ کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر سے تفصیلی بات چیت بھی کی اور انہیں ہر ممکن سہولت اور سیکورٹی کی یقین دہانی کروائی۔
بلوچستان حکومت نے انہیں ہر ضلع کا دورہ کرانے کی پیشکش کی تاکہ وہ خود حقائق کو دیکھ سکیں لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الزامات کی سیاست کو ترجیح دی شاہد رند نے کہا کہ نان ایشوز کو ایشو بنا کر عمر ایوب نے واضح کر دیا کہ وہ بطور اپوزیشن لیڈر اپنے آئینی عہدے کے تقاضے نبھانے میں ناکام ہیں
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت الزام تراشی کی سیاست سے گریز کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ خیبرپختونخوا میں جہاں ان کی جماعت گزشتہ 10 سال سے حکمرانی کر رہی ہے، وہاں امن و امان کی صورتحال کتنی بہتر ہوئی یہ سب جانتے ہیں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کئی مرتبہ ملک کے حقیقی مسائل بشمول امن و امان پر مشاورت اور مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں
بلوچستان حکومت آج بھی اس مسئلے کے حقیقی حل کے لیے تیار ہے اور اگر عمر ایوب واقعی مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہیں تو کوئٹہ کے دورے کی دعوت اب بھی برقرار ہیانہوں نے کہا کہ عمر ایوب جب بھی بلوچستان آنا چاہیں انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی، کیونکہ حکومت کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہے۔ لیکن اگر ان کا مقصد محض الزامات کی سیاست کرنا ہے، تو اس سے نہ خیبر پختونخوا میں امن قائم ہوا، نہ بلوچستان میں ہوگا۔ البتہ ایسی بیان بازی سوشل میڈیا کے “کی بورڈ وارئیرز” کے لیے ضرور مواد فراہم کرے گی،
لیکن حقیقت میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا ترجمان بلوچستان حکومت نے مزید کہا کہ قومی شاہراہوں کی بندش کے مسئلے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے جہاں اس معاملے پر تفصیلی غور کیا جائے گا اس اجلاس میں تمام ضلعی انتظامیہ کو “تھری ٹئیر فارمولا” کے تحت دی گئی ہدایات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس مسئلے کا مستقل اور مؤثر حل نکالا جا سکے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے
اور تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا محض بیانات دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں، اور حکومت بلوچستان اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت ایک متوازن اور حقیقت پر مبنی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ عملی طور پر مسائل کے حل میں سنجیدگی دکھائیں، الزامات کی سیاست سے گریز کریں اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومت تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
Leave a Reply