|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

کوئٹہ : بی این پی کے ممبر سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری نے پشتو اکیڈمی کو سیل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں آباد اقوام کی مادری زبانوں میں علم و ادب کی ترویج اور فروغ کے لئے حکومت کے پاس کوئی موثر پالیسی نہیں ہے

جس کی وجہ سے یہاں پر کئی سالوں سے علم و ادب کے شعبے میں پیشرفت نہ ہونے کے برابر ہے انہوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں قائم بلوچی اور پشتو اکیڈمی فنڈز اور دیگر سہولیات سے یکسر محروم ہیں حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ان اکیڈمیز کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور اس پر پچھلے دنوں پشتو اکیڈمی کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر سیل کر دیا گیا ہے

جو کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کر کے پشتو اکیڈمی کو عوام کے لئے کھول دے تاکہ وہاں قائم لائبریری سے طلبا و طالبات استفادہ کر سکے اور علمی و ادبی اشخاص بھی اکیڈمی میں اپنا کام جاری رکھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *