کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماوں کوئٹہ میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے بے گناہ افرادکی ہلاکت اورماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور عام شہریوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے
کہ بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا اور فائرنگ اور شیلنگ کا حکم دینے والے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،بلوچستان نیشنل پارٹی عید کے فوراً بعد بلوچستان کی سطح پر بلوچستان کانفرنس منعقد کریگی ۔
یہ بات بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماوں ملک نصیرشاہوانی ، آغا حسن بلوچ ،ملک عبدالولی کاکڑ،ثناء بلوچ ، ٹکری شفقت لانگو اوردیگر نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے کوئٹہ سمیت پورا بلوچستان کربلا کا منظرپیس کر رہا ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کے سیاسی و جمہوری سوچ رکھنے والے کارکنوں کا ایک پرامن پلیٹ فارم ہے اور یہ انکا جمہوریحق ہے کہ وہ لاپتہ افراد ،مسخ شدہ لاشوں ور لواحقین کو متحد و منظم کرکے انسانی حقوق کے احترام اوراس پر عملدرآمد کیلئے تحریک چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ٹرین حادثے کے بعد کوئٹہ کے قبرستانوں میں نامعلوم لاشوں کے دل ہلا دینے والے مناظر دیکھ کر لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت ہر شہری کے دل و دماغ میں خوف و ہراس اور انسانیت سوز مناظر کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج ،لاشوں یا میتوں کے اغواء ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن دھرنے پردھاوا ،پانچ معصوم شہریوں کی گولیوں سے ہلاکت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت پر آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ و گرفتاریوں نے نام نہاد نظام کی حقیقت سب پر آشکار کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت کئی خواتین اسوقت جیل اور 200کے قریب عام شہری مختلف تھانوں و ازیٹ خانوں میں قید ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی ان یزیدی اقدامات کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ نہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت و شہریوں کو فی الفور رہا کیا جائے بلکہ احتجاج پر کریک ڈاؤن اور قتل عام کے احکامات جاری رکنے والے حکام پرایف آئی آر درج کرکے انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی دن بدل مخدوش صورتحال ،جعلی اسمبلیوں و جعلی حکمرانوں کے کرتوتوں کی بدولت بلوچستان گزشتہ ایک سال سے ماتم کدہ بن گیا ہے
شاہراہیں بند ، قتل و غارت گری عام ،چوری و ڈکیتی معمول،تعلیمی اداروں کی بندش ،انسانی حقوق کی پامالی اور بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مارع کی نئی تاریخ رقم کردی گئی ہے ان حالات میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں ،طلباء تنظیموں ، تاجروں ، زمینداروں ، علماء کرام اور صحافی حضرات سمیت انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یکجا کرکے بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور حال کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان میں جاری شب و خون اور ریاستی جبر واستبداد کی مذمت کرتی ہے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر حملہ معصوم شہریوں کے قتل اور گرفتاریوںکے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی عید کے فوراً بعد بلوچستان کی سطح پر بلوچستان کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کرتی ہے اور اس سلسلے میں بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں اسٹیک ہولڈرز کو ایک جامع ،مفصل اور بلوچستان کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے مکالمہ کا اہتمام کریگی ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان میں عرصہ دراز سے جاری بالخصوص گزشتہ ایک سال سے جاری انسانی حقوق کی بے پناہ خلاف ورزیوں ،گھروں میں سرچ آپریشن ،چادروچاردیواری کی پامالی ،تعلیمی اداروں کی بندش ، بیرون صوبہ یعنی ملک بھر میں بلوچستان کے طلباء کو ہراساں کرنے اور انکی پروفائلنگ ،بلوچستان کے مفکر ،دانشور ، پروفیسر ،ڈاکٹرز ،طالب علموں اور سیاسی کارکنوں کو نوآبادیاتی نظام کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے اور انکی سوچ اور آزادانہ نقل و حمل پرپابندی کی پرزور مذمت کرتی ہے۔
Leave a Reply