|

وقتِ اشاعت :   3 days پہلے

کوئٹہ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیئر پرسن کی بہن نادیہ بلوچ، اقراء بلوچ اور عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہمارے 115ء سے 125 لوگوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں اور جیل میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے

عدالتوں سے ضمانت کے باوجود ان کی رہائی اور ان سے ملاقات کرنے نہیں دی جارہی ماہ رنگ بلوچ کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا جارہا ہے بلوچستان میں ہونے والی غیر انسانی اقدامات کے خلاف بلوچ عوام کے پاس جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ایسی کارروائیاں ہمیں جدوجہد سے نہیں روک سکتیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی نمائندہ بی بی سی ٹائمز میگزین اور نوبل امن کمیٹی جیسی اداروں کی جانب سے ہماری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ کو غیر قانونی، غیر آئینی طور پر جیل میں بند رکھا گیا ہے

جس کا مقصد بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے ڈاکٹر ماہ رنگ کوئی مجرم نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سرکردہ رہنماء ہے ریاست نے انہیں جھوٹے اور سیاسی دبائو پر مبنی کیسز میں جیل میں رکھا ہے

پہلے ہمارے والد کو بھی ریاست نے جھوٹے کیسز میں کئی سال جیل میں رکھا اور بعد میںجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ماہ رنگ بلوچ خود بچپن میں ان اذیتوں سے گزری ہے اور ہمارے والد کی بالآخر لاش پھینکی گئی

ہمیں بے سہارا کیا گیا بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں غیر انسانی اقدامات پر خاموشی اختیار کرنے کے لئے دبائو ڈالا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ جن مائوں کے بچے کئی سالوں سے قید خانوں میں جبری گمشدگی کا شکار تھے ایک بار پھر ہم پر قہر ڈھایا گیا ہے

آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود سرکاری اہلکار احکامات ماننے کی بجائے انہیں ان کے اہلخانہ سے ملنے نہیں دے رہی

مجھے بھی تین روز مسلسل چکر کاٹنے کے باوجود ایک بار ملنے کی اجازت دی گئی باقی اہلخانہ کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ان کے ساتھ جیل میں غیر قانونی وانسانی سلوک رکھا جارہا ہے اور انہیں گھر سے کھانے کی فراہمی کی سہولت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اس کی طبعیت خراب ہے اور جیل میں کیمرے نصب کئے گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے ہمیں جدوجہد سے نہیں روک سکتے ہمارا پر امن احتجاج رنگ لائے گا یہ کاروائیاں سیاسی بنیادوں پر دبائو ڈالنے کے لئے کی جارہی ہے

ہماری میڈیا کے توسط سے انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاستدانوں سمیت معاشرے کے ہر طبقے سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر انسانی رویے اور سلوک کے خلاف آواز اٹھائے ہمیں خدشہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کو نقصان نہ پہنچایا جائے گا ہم سیاسی اور پر امن لوگ ہیں بنیادی انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں ہمیں دو دہائیوں سے توڑا نہیں جاسکا اب کیسے توڑیں گے ہماری سیاسی پرامن جدوجہد جاری ہے

کیونکہ عوام کے پاس جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں ایک سوال کے جواب میں عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز ان کی رہائی کیلئے عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی

اور ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے ان کی گرفتاری تھری ایم پی او کے تحت بتائی گئی جبکہ ہمارے 115 سے 125 لوگوں کو بجلی روڈ، کینٹ، سریاب ، سول لائن اور کوئٹہ جیل میں رکھا گیا ہے

جبکہ سرکاری طور پر 2 خواتین سمیت 48 لوگوں کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی جارہی ہے ہمارے لوگوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیبرگ بلوچ بیمار ہے اور ان تک ادویات کی فراہمی اور ملاقات کرنے کی اجازت نہیںدی جارہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *