|

وقتِ اشاعت :   18 hours پہلے

کوئٹہ : پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان پر بات کرنے سے کترانے والے لوگ کس منہ سے بلوچستان میں دھرنوں میں شرکت کررہے ہیں۔

بیان میں کہا ہے کہ کیا علامہ راجہ ناصر عباس اسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے؟ جس کے رکن کی نشاندہی پر سرداراخترمینگل کے بولنے سے قبل ہی قومی اسمبلی کا اجلاس کورم نامکمل ہونے پر ملتوی کر دیا گیا اور وہ مستعفی ہوئے۔

یہ آج جو مگرمچھ کے آنسو بہانے اور اپنا منافق چہرہ دکھانے کیلئے وفد مستونگ پہنچا۔ ان سے پوچھتا ہوں اتنا ہی درد رکھتے ہو تو اسمبلی میں خاموش رہ کر بلوچستان کی آواز کیوں نہیں سنتے؟ وہاں تو آپ کانوں میں ہیڈ فونز ڈال کر اور ایک سرٹیفائیڈ چور کے لیے اوووو اووو کرتے نہیں تھکتے۔

کون سی پی ٹی آئی بلوچستان سے درد رکھنے کا دعوی کر رہی ہے جس کا وزیراعظم شدید سردی میں کوئٹہ کی سڑکوں پر انصاف کیلئے لاشیں رکھ کر دھرنا دینے والی معصوم ہزارہ ماں اور بیٹیوں کو بلیک میلر کہتا تھا، وہ بلوچستان کا درد رکھتے ہیں؟

خدارا بلوچستان دہشتگردی کی اس لہر میں جل رہا ہے اور اسے مسترد شدہ مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کی کوشش میں مزید آگ کی طرف نہ دھکیلیں اور اپنی یہ منافقت اور دہری سیاست بند کردیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *