بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کا مسئلہ دیرینہ ہے۔
مگر حالیہ چند ماہ کے دوران امن و امان کی صورتحال نے صوبے کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے کیونکہ ماضی کی نسبت اس کی شدت زیادہ ہے۔
سب کی توجہ بلوچستان میں دیرپا اور مستقل امن لانے پر مرکوز ہے۔
حکومت، سیکیورٹی ادارے، سیاسی جماعتوںکی تمام تر توجہ بلوچستان پر ہے۔
اس سے قبل ماضی میں بھی بلوچستان میں سیاسی استحکام لانے کے حوالے سے کوششیں کی گئیں۔
مگر اس کے دوررس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
بلوچستان میں مستقل امن کیلئے یقینا اہم سیاسی جماعتوں خاص کر بلوچستان کے اسٹیک ہولڈرز کا مرکزی کردار ہے جو ڈائیلاگ کیلئے راستہ نکالے۔
کیونکہ جس طرح سے حالات خرابی کی طرف جارہے ہیں اس میں طاقت کا عنصر غالب آئے گا اور سیاسی ڈائیلاگ پیچھے رہ جائے گی۔
ریاست قیام امن کیلئے اپنی رٹ قائم کرنے کی ہر ممکن اور غیر معمولی اقدامات اٹھائے گی۔
گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء کو خطے کی موجودہ صورتحال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں پاکستان کی حکمتِ عملی پر بریفنگ دی گئی۔
جبکہ کانفرنس میں علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے ہر قیمت پر بلاتفریق دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اور کہا کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔
اور ملک دشمن عناصر، سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی۔
فورم نے اعادہ کیا کسی کو بلوچستان میں امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اور بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی میں خلل ڈالنے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
شرکاء کانفرنس نے کہا کہ غیرملکی گٹھ جوڑ، انتشار پھیلانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں پوری طرح سے بے نقاب ہوچکی ہیں۔
ایسے عناصر اور ایسی کوششیں کرنے والوں کو کسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فورم نے نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کے تحت عزمِ استحکام کی حکمتِ عملی کے تیز اور موثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کے تعاون سے مشترکہ نقطہ نظر کی اہمیت کو بھی اْجاگر کیا۔
شرکاء کانفرنس کا کہنا تھا کہ ان مذموم کوششوں کو بلوچستان کے عوام کی غیرمتزلزل حمایت سے فیصلہ کن طور پر ناکام بنایا جائے گا۔
ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر پوری استقامت سے عملدرآمد کریں گے۔
قانون کی عملداری میں کسی قسم کی نرمی اور کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
آرمی چیف نے پاکستان بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے آغاز کو بھی سراہا۔
اور انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے نیشنل ایکشن پلان کے تیز نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
اور کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں حکومتی ہدایات کے مطابق تمام ادارے تعاون یقینی بنائیں۔
بہرحال کور کمانڈرز کانفرنس میں سب سے زیادہ گفتگو بلوچستان کی سیکیورٹی حالات پر کی گئی۔
اور اس حوالے سے حکمت عملی سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی بات کی گئی۔
جو بلوچستان کی سیکیورٹی کے حالات کو واضح کرتی ہے کہ اس وقت بلوچستان میں امن اولین ترجیح ہے۔
اور بدامنی کی شدت کو روکنا ہے۔
سیکیورٹی ادارے کسی صورت امن و امان کے حوالے سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
اور اپنی حکمت عملی کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اب حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بھی بلوچستان میں دیرپا امن کیلئے متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔
تاکہ سیاسی ڈائیلاگ کا آپشن بھی کھلا رہے۔
اور اس کیلئے بلوچستان کے اسٹیک ہولڈرز سمیت اہم سیاسی شخصیات پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے رابطہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
تاکہ سیاسی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاسکے۔
جو بلوچستان کے امن اور خوشحالی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی کی غیر معمولی صورتحال، دیرپا امن کیلئے کوششیں!

وقتِ اشاعت : 18 hours پہلے
Leave a Reply