کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے پریس کانفرنس میں مختلف اہم امور پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی این پی کے لانگ مارچ کے کوئٹہ پہنچنے کے سبب صوبے میں سیکورٹی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صبیہ اور سردار اختر مینگل کی ریاست مخالف تقریروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند نے کہا کہ بی این پی کا لانگ مارچ کوئٹہ پہنچ سے صوبے میں سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں حکومت صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے اور تمام صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
شاہد رند نے بتایا کہ ڈاکٹر صبیہ اور سردار اختر مینگل نے دھرنے میں ریاست مخالف تقریریں کیں، جس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ترجمان بلوچستان حکومت نے اعلان کیا کہ ملک مخالف تقاریر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے بی این پی کے ساتھ دو دور کے مذاکرات کیے تھے، لیکن وہ ناکام ہو گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ سردار اختر مینگل کے تین بڑے مطالبات تھے، جن میں ماہ رنگ کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ تاہم، بی این پی نے شاہوانی اسٹیڈیم میں دھرنے کی اجازت دینے کی حکومت کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
شاہد رند نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت بھی دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاق کی پالیسی کے پابند ہیں، مگر کل معزز ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت کے وفد نے ماہ رنگ سے جیل میں کسی بھی قسم کی ملاقات نہیں کی۔
شاہد رند نے کہا کہ “بی وائی سی کیا ہے، سب کو معلوم ہے”، تاہم اس پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس پریس کانفرنس میں شاہد رند نے بلوچستان حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کو واضح کرتے ہوئے سیاسی اور سیکورٹی صورتحال پر حکومت کے موقف کو بیان کیا۔
Leave a Reply