|

وقتِ اشاعت :   June 15 – 2025

کوئٹہ: بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں خضدار میں کامران جتک کی سفاکانہ ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس سانحے کو ریاستی سرپرستی میں چلنے والے بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈز کی ایک اور بزدلانہ کاروائی قرار دیتی ہے۔

کامران جتک کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں ریاستی ادارے نہ صرف انسانی حقوق کو روند رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو آواز اٹھانے کی سزا دے کر ایک منظم نسل کْشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ڈیتھ اسکواڈز، جنہیں ریاستی چھتری تلے اسلحہ، طاقت اور تحفظ حاصل ہے، نہ صرف بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں بلکہ بلوچستان میں خوف، جبر اور خاموشی مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خضدار، جو تعلیمی، سیاسی اور قومی شعور کا مرکز رہا ہے، آج ان ہی پالیسیوں کے باعث ایک مقتل میں تبدیل ہوچکا ہے۔

بی ایس او بلوچستان کے باشعور نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کریں ایسا نہ ہو کہ کوئی اور نوجوان ماورائے عدالت قتل ہو جائے۔ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ بی ایس او اس سانحے پر خاموش نہیں رہے گی۔ اگر ظلم کا یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اعلیٰ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔