|

وقتِ اشاعت :   June 19 – 2025

دالبندین: ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ہیومن ریسورس (ایچ آر) منیجرہانو سٹیڈن نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ اس خطے میں پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع اور مقامی آبادی کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں دالبندین پریس کلب کے وفد کے دورے کے موقع پر کہا۔

وفد کی قیادت دالبندین پریس کلب کے صدر محمد بخش بلوچ کررہے تھے۔ کمیونٹی انویسٹمنٹ آفیسر محبوب علی سنجرانی،انڈس مینجر شیر جان بلوچ کمیونیکیشن آفیسرز علی رضا رند اور نصیب اللہ سنجرانی نے صحافیوں کو انڈس ہسپتال اور ہنر فاؤنڈیشن۔ہمے سکول کا دورہ کرایا، جو ریکوڈک کمپنی اور سی ڈی سی کے اشتراک سے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم جبکہ مقامی آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آر او واٹر پلانٹ سے روزانہ 6,000 لیٹر صاف پانی ذخیرہ کر کے کلی گاؤں تک پائپ لائن کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد علاقے میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ریکوڈک ساہٹ میں میڈیا برہفنگ سے کمیونیکیشن منیجر سمعیہ علی شاہ، کمیونٹی انگیجمنٹ منیجر علی دوست بلوچ، سینئر کمیونیکیشن آفیسر ملک نصیب اللہ بڑیچ۔کمیونیکیشن آفیسر علی رضا رند۔ کمیونٹی انگیجمنٹ لیڈ نورخان مینگل، سینیئر جیولوجسٹ حبیب الرحمن کبدانی، ایچ آر لیڈ عنایت کبدانی، انوائرنمنٹ آفیسر تنزیلہ خان اور پروکیورمنٹ آفیسر حفیظ بلوچ بھی موجود تھے۔ ریکوڈک منصوبہ 50 فیصد بیرک گولڈ کارپوریشن، 25 فیصد حکومت پاکستان اور 25 فیصد حکومت بلوچستان کی شراکت داری پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی 5 فیصد رائلٹی بلوچستان حکومت اور ضلع چاغی کو دی جاتی ہے۔منصوبے کے مکمل آغاز پر 25,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،

جبکہ ابتدائی مرحلے میں 7,500 ملازمتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ریکوڈک کمپنی اب تک سی ایس آر فنڈز کے تحت پانی، صحت، اور تعلیم کے شعبوں میں 6.8 ملین ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ نوکنڈی میں انڈس ہسپتال، ہمے چاہ بیسک ہیلتھ سینٹر، ہنر فاؤنڈیشن انسٹیٹیوٹ اور مضافاتی علاقوں میں سات پرائمری اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ 14 طلباء کو ملک کے نامور تعلیمی اداروں میں اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے۔

جلد ہی نوکنڈی کے دو ہائر سیکنڈری اسکولز (بوائز و گرلز) میں نرسری سے انٹرمیڈیٹ تک معیاری تعلیم کا آغاز کیا جائے گا۔، انٹرنیشنل گریجویٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 27 انجینئرز تربیت حاصل کر رہے ہیں، مقامی طلباء کے لیے اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔کمپنی کی جانب سے ہمئے، نوک چاہ، دوربن چاہ اور مشکی چاہ میں آر او واٹر پلانٹس نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں کے لیے موبائل ہیلتھ یونٹس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

اب تک مقامی وینڈرز کو 7 ملین ڈالر اور بلوچستان بھر کے وینڈرز کو 14.5 ملین ڈالر کے منصوبے دیے جا چکے ہیں۔ یہ منصوبہ آئندہ مرحلے میں شامل ہے اور جلد اس پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے