گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان / چیئرمین گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت جی ڈی اے کی گورننگ باڈی کا 30 واں اجلاس بدھ کو گوادر میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن، جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل سیف اللہ کھیتران سمیت متعلقہ محکموں کے افسران اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران گوادر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، مالی و انتظامی امور، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، انفراسٹرکچر، شاپنگ مال، سیاحتی پارکس اور مختلف نجی ہاؤسنگ اسکیموں سمیت کئی اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور متعدد فیصلے بھی کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ایک خود مختار، فعال اور منافع بخش ادارے کے طور پر سامنے آنا چاہیے جو اپنے وسائل خود پیدا کرے اور حکومتی فنڈز پر انحصار کم کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم توقع کر رہے تھے کہ جی ڈی اے اب تک ریونیو جنریٹ کرنے کے قابل ہو چکا ہوگا لیکن بدقسمتی سے یہ ادارہ ابھی تک حکومت سے مالی امداد مانگ رہا ہے۔
ہمیں اس طرزِ عمل کو ختم کر کے جی ڈی اے کو ایک خود کفیل ادارہ بنانا ہے جو خود ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔
اجلاس میں شادی کور ڈیم کی سولرائزیشن، ایندھن کے اخراجات اور پانی کی فراہمی کے لیے مطلوب فنڈز کی منظوری کی سفارش پیش کی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے جی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایسے منصوبے ہرگز نہ پیش کریں جن میں حکومت مستقل مالی معاونت کرتی رہے اور دوسری جانب یہ منصوبے نتائج دینے سے قاصر ہوں۔
اجلاس کے دوران گوادر میں پانی کی فراہمی سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر کو پانی فراہم کرنے والے اہم ذخائر، جیسے کہ سوڈ ڈیم اور آکڑہ ڈیم، بارشوں کی کمی کے باعث خشک ہو چکے ہیں اور موجودہ صورتحال میں گوادر کو شدید آبی بحران کا سامنا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ شادی کور ڈیم سے گوادر کو جوڑا جائے، اس مقصد کے لیے تمام ضروری فنڈز اور وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ اب گوادر شہر کو پانی کی مکمل فراہمی کی ذمہ داری صرف جی ڈی اے کے سپرد ہوگی جبکہ مضافاتی و دیہی علاقوں کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پانی سپلائی کرے گا۔
وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری نے جی ڈی اے کے معاونتی منصوبوں کی تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش کی گئی منصوبہ بندی نہ صرف غیر تسلی بخش ہے بلکہ ان میں سنجیدگی اور مستقبل بینی کا فقدان ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری کے ساتھ کوئٹہ آئیں اور از سر نو بریفنگ دیں تاکہ قابلِ عمل حکمت عملی پر عملی پیش رفت کی جا سکے۔
اجلاس میں جی ڈی اے کے سالانہ بجٹ، پارکس کی اپ گریڈیشن، منصوبوں کی سولرائزیشن، جیونی کو آبی اور مین ٹرانسمیشن لائن سے منسلک کرنے، اور دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرکشش ماحول پیدا کیا جائے تاکہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کی جدید ترقی کے ساتھ ساتھ یہاں کے باسیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا حل ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اگر سیاحت، ہوٹلنگ، مارکیٹس اور تجارتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں فروغ نہ دیا گیا تو ترقیاتی منصوبے اپنی افادیت کھو بیٹھیں گے۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کواپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا، وزیر اعلی بلوچستان
![]()
وقتِ اشاعت : June 19 – 2025