اسرائیل، ایران جنگ رکوانے کے لیے عالمی سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں، اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ، عالمی برادری پر بڑی ذمہ داری ہے ، اگر تنازع بڑھ گیا تو اس کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکے گا ، تمام فریقین سے درخواست ہے کہ امن کو موقع دیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ایران متعدد بار کہہ چکا ہے وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنارہا۔ اس کے علاوہ چینی مندوب کا کہنا تھا کہ چین اسرائیل اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
اسرائیلی حملے عالمی قوانین، ایران کی سالمیت اورخود مختاری کی خلاف ورزی ہیں ، اسرائیل کی موجودہ کارروائیاں علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کی جائے ، اسرائیل ایران تنازع میں اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اسرائیل نے ایران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمے دار ایران کو ٹھہرا دیا۔
اْن کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے چاہئیں ، ایران کو جوہری معاہدے پر رضامند ہونا چاہیے تھا۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے نہیں رکتے جوہری مذاکرات نہیں کریں گے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے مذاکرات کیے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ بتایا کہ آج ان کی یورپی رہنماؤں سے سنجیدہ اور باوقار بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ یورپی وزرائے خارجہ سے بات چیت کے تسلسل کی حمایت کرتے ہیں، یورپی رہنماؤں سے مستقبل میں دوبارہ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ ایران ایک بار پھر سفارت کاری پر غور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن واضح کر دیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے شہری آبادی پرحملے روکنے چاہیے، جب تک اسرائیل کے حملے نہیں رکتے جوہری مذاکرات ممکن نہیں۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں اس سفارتی اقدام سے مذاکرات کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی حملوں میں حمایت پر ایران نے امریکا سے جوہری مذاکرات کے چھٹے دور میں شرکت سے صاف انکار کردیا تھا، جوہری مذاکرات کایہ چھٹا دور گزشتہ اتوار کو مسقط میں شیڈول تھا۔
اس کے بعد یورپی وزارئے خارجہ نے ایران سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایران اسرائیل تنازع پر یورپی ممالک پل کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں جبکہ پاکستان نے بھی ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے علاقائی امن پر زور دیا ہے۔
یورپ اور پاکستان کی مکمل کوشش ہے کہ ایران اسرائیل جنگ ختم ہو جائے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم امریکہ کی جانب سے زیادہ سنجیدگی مذاکرات میں دکھائی نہیں دے رہی بلکہ امریکہ اس جنگ میں اسرائیل کی ممکنہ حمایت اور براہ راست ملوث ہوسکتا ہے مگر یہ مشرق وسطیٰ سمیت پورے عالمی امن کو تہس نہس کرکے رکھ دے گا۔
روس اور چین بھی سفارت کاری کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں مگر اسرائیل کی نیت جنگ بندی کی بالکل بھی نہیں ہے، وہ ایران پر حملوں میں مزید تیزی لانا چاہتا ہے جس کیلئے امریکی فوجی مدد پر اکتفا کیا ہے تاکہ ایران پر شدت کے ساتھ حملے کئے جائیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپی ممالک، پاکستان، چین، روس اور ترکی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے مزید کیا اقدامات اٹھائینگے تاکہ اسرائیل ایران تنازعہ تیسری عالمی جنگ کی طرف نہ بڑھے جو بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
ایران ،اسرائیل جنگ میں شدت،تیسری عالمی جنگ کا خطرہ،جنگ روکنے کے لیے یورپ،پاکستان، چین، روس، ترکی کی سفارتی کوششیں !
![]()
وقتِ اشاعت : June 22 – 2025