وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایوان میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنا دوسرا بجٹ ایوان سے پاس کروایا ہے، جس پر اپوزیشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچستان میں بحران آیا، آصف علی زرداری نے لبیک کہا اور وفاق نے ہر مصیبت میں بلوچستان کی مدد کی، ہم آئندہ سالوں کے لیے ایک واضح روڈ میپ دینا چاہتے ہیں جس میں گڈ گورننس اور امن و امان ہماری اولین ترجیحات ہیں، گورننس موجود ہے لیکن اس میں بہتری لائی جائے گی
ہر کوئی گڈ گورننس کا نعرہ لگاتا ہے لیکن جب تک بیوروکریسی میرٹ پر کام نہیں کرے گی گڈ گورننس نہیں آسکتی، بیوروکریسی کو پروموٹ کیا جا رہا ہے تاکہ سروس ڈلیوری بہتر ہو، جو کہ عوامی شکایات کا بنیادی سبب ہے، اس کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، نوجوانوں کی شکایات حکومت تک پہنچانے کے لیے خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے، ہر شکایت کا ازالہ کیا جائے گا، گزشتہ ایک سال میں 3201 اسکولز کھولے گئے اور 16 ہزار بھرتیاں کی گئیں، وزراء کو ہدایت دی گئی ہے کہ دو ماہ میں تمام خالی اسامیاں پُر کی جائیں جبکہ تین ماہ میں غیر فعال بی ایچ یوز اور اسپتالوں کو فعال کیا جائے گا، بلوچستان کو کم وسائل کے ساتھ ترقی نہیں دی جاسکتی، اس لیے اراکین قومی اسمبلی کے تعاون سے بجٹ کو بھرپور طریقے سے نافذ کیا گیا، رواں مالی سال کا 100 فیصد بجٹ استعمال ہوا ہے اور آئندہ سال بھی 100 فیصد پی ایس ڈی پی پر عملدرآمد کا وعدہ کرتا ہوں، ہماری کوشش ہے کہ دوردراز علاقوں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جائے، امن و امان ایک بڑا چیلنج ہے جس پر پورا پاکستان فکرمند ہے، بلوچستان کی تمام شاہراہیں اس وقت کھلی ہیں اور سیکیورٹی فورسز پر مکمل اعتماد ہے، بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی.
فورسز کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، میڈیا سے گزارش ہے کہ بلوچستان کی درست تصویر پیش کرے، دہشت گردی کے خلاف ریاست نے جنگ لڑی ہے اور ہم اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، امن و امان کی بحالی کے لیے سی ٹی ڈی کو مزید مستحکم کریں گے، تھانوں کی ازسرنو تعمیر اور پراسیکیوشن کو مؤثر بنایا جائے گا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف مضبوط قانونی کارروائی کی جاسکے، اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے 74 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، نوجوانوں کو انڈسٹریل محکمہ کے تعاون سے انٹرپرائز پروگرام کے تحت کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ قانونی اور مثبت سرگرمیوں میں شامل ہو سکیں، سیف سٹی پروجیکٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور اس کا پی ڈی تبدیل کیا جا رہا ہے، تمام اضلاع میں فروٹ و سبزی منڈیاں اور اڈے قائم کیے جائیں گے
بلوچستان کا مستقبل معدنیات میں ہے، خاص طور پر چاغی میں، جہاں اچھی کمپنیوں سے رابطے ہو چکے ہیں جو یہاں آ کر فیکٹریاں لگائیں گی، ڈیمز کی تعمیر جاری ہے اور کمانڈ ایریا کی ترقی کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں، کوئٹہ کو ایک جدید طرز پر ترقی دی جا رہی ہے، شہریوں کے لیے شٹل ٹرین چلائی جائے گی، ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کھاد کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں تاکہ مقامی گیس استعمال کی جا سکے، واشک میں ایک بڑا ڈیم تعمیر ہوگا جو صنعتوں کو پانی فراہم کرے گا، بلوچستان میں 1200 نئے اسکولز قائم کیے جائیں گے، ایک ماہ کے اندر ائیر ایمبولینس سروس شروع کر دی جائے گی، ہوابازی کے فروغ کے لیے کلب قائم کیا جا رہا ہے اور بچیوں کے لیے پنک سکوٹی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ خواتین بااختیار بن سکیں۔