کوئٹہ سے نومبر 2024 میں اغواء ہونے والے تاجر کے بیٹے مصور خان کاکڑ کی لاش طویل تحقیقات اور مسلسل سرچ آپریشن کے بعد برآمد کر لی گئی۔
ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس واردات میں کالعدم تنظیم داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق 15 نومبر 2024 کو مصور کاکڑ کو کوئٹہ شہر سے اغواء کیا گیا تھا۔
واقعے کی حساسیت کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے ایک خصوصی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی، جس میں مختلف سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارے شامل تھے۔
جے آئی ٹی نے 19 اجلاس منعقد کیے، 2000 گھروں کی تلاشی لی، 1200 مقامات پر چھاپے مارے اور درجنوں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔
اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی 17 نومبر کو برآمد کر لی گئی تھی۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اغوا کاروں کا تعلق افغانستان اور پاکستان کے ضلع باجوڑ سے تھا، وہ ایران اور افغانستان کے نمبر استعمال کرتے ہوئے مغوی کے والد سے رابطے میں رہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق اغوا کار 12 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے تھے۔
معلومات ملنے پر 20 اور 22 نومبر کو کوئٹہ کے 2 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے لیکن اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مصور کاکڑ کو پہلے کوئٹہ بائی پاس کے قریب دشت کے علاقے میں رکھا گیا اور بعد میں اسپلنجی منتقل کر دیا گیا۔
اسپلنجی میں سرچ آپریشن کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس علاقے میں تقریباً ایک ماہ تک آپریشن جاری رہا۔
بالآخر 23 جون کو اسپلنجی میں ایک قبر کا سراغ ملا، جہاں سے ایک لاش برآمد ہوئی۔
پولیس نے والدین سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے تصدیق کی، تو لاش کی شناخت مصور خان کاکڑ کے طور پر ہوئی۔
اعتزاز گورایا نے کہا کہ یہ ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے، اور تمام تر کوششوں اور وسائل کے باوجود ہم مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب نہ کروا سکے، جس پر ہمیں شدید افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اغوا کے پیچھے کوئی مجرمانہ (کرمنل) مقصد نہیں تھا بلکہ یہ واردات کالعدم تنظیم داعش کے نیٹ ورک کا حصہ تھی۔
اغوا کاروں کو اسلحہ فراہم کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور کیس بند نہیں کیا گیا بلکہ مزید عناصر کی تلاش جاری ہے۔
اس موقع پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک سانحہ ہے۔
حکومت، پولیس اور سیاسی ٹیم متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
والدین نے مکمل تعاون کیا، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود بچے کی بحفاظت واپسی ممکن نہ ہو سکی، جس پر ہم گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ایک تاجر کے کمسن بیٹے کو کسی کالعدم تنظیم نے اغواء کیا بلکہ اس سے قبل بھی کوئٹہ شہر سے ڈاکٹرز کے اغواء برائے تاوان کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اغواء کار مغویوں کو افغانستان یا پھر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں منتقل کرتے تھے، پھر ان کے خاندان سے تاوان طلب کرتے تھے۔
مصور خان کاکڑ کا کیس بھی اسی نوعیت کا ہے کم سن بچے کو اغواء کرنے کے بعد خاندان سے تاوان کا تقاضہ کیا گیا۔
بہرحال اس کیس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، سفاک مجرمان کو کٹہرے میں لاکر سخت سزا دینی چاہئے اور کوئٹہ شہر کے تمام داخلہ اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ اس طرح کے کیسز میں جلد پیش رفت یقینی ہوسکے۔
شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات سمیت دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھی جائے جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ امن و امان سمیت شہریوں کی جان و مال محفوظ ہوسکیں۔
مصور خان کاکڑ کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تاکہ ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچا کر اہلخانہ سمیت بلوچستان کے عوام کو تسلی دی جاسکے کہ دہشت گردوں کیلئے بلوچستان غیر محفوظ ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ریاست تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے شرپسند عناصر کا خاتمہ ممکن بنائے گی۔