امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو شہ سرخیوں میں رکھنے اور اپنی تعریف سننے کے عادی ہیں وہ اپنے ہر عمل کو بہترین قرار دیتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ان کا ہر عمل قابل تعریف ہے۔
روس یوکرین جنگ بندی کے دعوے کئے مگر انہیں کامیابی نہیں ملی، پاک بھارت جنگ میں سیز فائر کا کریڈیٹ تو انہیں ملا مگر ایران اسرائیل جنگ پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ اس بنیاد پربنایا جارہا ہے کہ ایک تو امریکی صدر اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے مگر تہران خالی کرانے اور ایران میں رجیم چینج کے بیانات دیتے رہے ،جب اسرائیل کو اس جنگ کے دوران ایران کی جانب سے بھرپور جواب دیا جانے لگا تو امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جوہری صلاحیت کو مکمل تباہ کردیا گیا ہے، اس پر بھی ان کے متضادات بیانات سامنے آئے پہلے بتایا کہ اب ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہا، پھر ایک نیا بیان داغ دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے میں دہائیوں لگ جائینگے ۔اس کے بعد کہا کہ چند سال تک ایران جوہری ہتھیار نہیں بناسکتا۔
امریکی حملہ کس قدر کامیاب رہا ہے، حتمی طور پراس کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ ایرانی جوہری صلاحیت ختم کردی گئی ہے البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ بندی کا اعلان کیا جس پر اسرائیل اور ایران راضی ہوئے ۔
اسرائیل کی مجبوری تھی کہ وہ جنگ بندی کی طرف جائے کیونکہ جنگ کی سپلائی چین امریکہ ہے اگر امریکہ جنگی مدد نہیں کرے گا تو اسرائیل لڑ نہیں سکتا ۔
ایران کو بہترین موقع میسر آیا کیونکہ ایران نے بلاخوف خطر اپنے دفاع میں بھرپور جوابی حملے کئے جس سے اسرائیل جیسے طاقتور کو نقصان پہنچا۔
ایران نے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قوت کے سامنے قطعی طور پر جھکنے والا نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر سمیت دیگر قائدین نے اس جنگ کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے آئندہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کاا عادہ بھی کیا۔
بہرحال ایران نے اس جنگ بندی کا کریڈیٹ امریکہ کو نہیں دیا جس پر یقینا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل ضرور آنا تھا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایرانی سپریم لیڈرکوبچایا اور انہوں نے میرا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔
ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر نے جنگ میں اپنی فتح کا دعویٰ اتنی بے وقوفی سے کیوں کیا، آیت اللہ خامنہ ای ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے جنگ جیت گئے ہیں، ایرانی سپریم لیڈرجانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے، ایک ایماندار شخص کے لیے جھوٹ بولنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا میں جانتا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کہاں پناہ لیے ہوئے تھے، اسرائیل یا امریکی فوج کو خامنہ ای کو مارنے کی اجازت نہیں دوں گا، میں نے ایرانی سپریم لیڈرکوبچایا اور انہوں نے میرا شکریہ تک ادانہیں کیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو عالمی نظام میں واپس آنا ہوگا ورنہ حالات ان کے لیے مزید خراب ہوں گے، گزشتہ دنوں میں پابندیاں ہٹانے اور دیگر چیزوں پر کام کررہا تھا، میرے اقدامات سے ایران کو مستحکم بحالی کا بہتر موقع مل سکتا تھا، غصے، نفرت اوربیزاری بھرے بیان نے میرا یہ کام فوراً روک دیا۔
اس سے قبل امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو سنگین نقصان پہنچایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایران کی تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملے ‘‘کامیاب ترین’’ ثابت ہوئے اور فردو جوہری پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جس پر امریکی میڈیا سمیت غیر ملکی خبر رساں اداروں نے اس حملے میں فردو جوہری پلانٹ کے نقصانات پر سوالات اٹھائے تھے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمیں کریڈیٹ دینے کی بجائے ناقدین تنقید کرکے حوصلہ شکنی کررہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس یوکرین، حماس اور اسرائیل جنگ بندی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں بدلنے کیلئے بیانات کا سہارا لیتے ہیں اور مخالفین کو رگیدنے کیلئے ہر حد تک جاتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے امریکی صدر کی تعریف اور اظہار تشکر کا بیان نہ دینے پر امریکی صدر حواس باختہ ہوگئے ہیں اوروہ چاہتے ہیں کہ انہیں عالمی امن کا چمپیئن قرار دیا جائے ۔
ایران نے اپنی جنگ میں کامیابی کا کریڈیٹ اپنی قیادت، فوج اور عوام کو دیا ہے جو اس کا حق ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس عمل سے بہت ناخوش ہیں انہیں اپنی تعریف و توصیف چاہئے تاکہ شہ سرخیوں میں رہ سکیں اور خود کو نوبل انعام کا حق دار سمجھیں۔