|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2025

پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
معیشت میں بہتری اور اصلاحات کے اثرات نمایاں طور دکھائی دے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام اور اصلاحاتی اقدامات سے پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی ہے، ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات نے معیشت کو سہارا دیا۔
2026ء میں پاکستان کی معیشت مزید بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ بیرونی اور مقامی سرمایہ کاری میں اضافے سے ترقی کی رفتار بڑھنے کا امکان ہے۔
2025ء میں مہنگائی کی اوسط شرح 6 فیصد رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔
عالمی قیمتوں میں استحکام اور طلب میں کمی سے مہنگائی پر قابو پانا ممکن ہے، پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔
2026 میں پاکستان کی شرح نمو 3.0 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحاتی پروگرام سے استحکام حاصل ہوا۔
نجی سرمایہ کاری میں اضافے سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی۔
صنعت و خدمات کے شعبے میں ترقی کا امکان ہے۔
اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں افراط زر کی شرح 6.0 فیصد تک گرنے کی توقع ہے۔
مستحکم زرمبادلہ مارکیٹ اور اصلاحات سے معاشی فضا میں بہتری آئی ہے جو کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
اب عالمی ادارے بھی پاکستان میں معاشی استحکام کا اعتراف کررہے ہیں مستقبل میں پاکستان کو معاشی ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل ہونگی خاص کر بیرونی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں گزشتہ 12 ماہ میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہوکر 47 فیصد رہ گیا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کریڈٹ آؤٹ لک میں بہتری سے پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے۔
معاشی استحکام اور اصلاحات کے باعث بھی ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے۔
پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں کمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔
اس حوالے سے اپنے بیان میں وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ بلوم برگ انٹیلی جنس کے مطابق پاکستان نے خود مختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے، پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے پہلا نمبر حاصل کیا ہے۔
خرم شہزادکا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 مہینوں میں ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آنا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتمادکے باعث ہے۔
بہرحال موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت پر خصوصی توجہ دی ہے، دوست ممالک اور بیرونی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدے کئے گئے ہیں جس سے ملک میں تجارت کو وسعت ملے گا، صنعتی ترقی ہوگی ،روزگار کے بڑے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ مہنگائی کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی کی امید ہے۔