|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2025

کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے 25 جولائی کو کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام لانگ مارچ کو کامیاب بنائیں ،

بلوچستان کے تمام مسائل کی ذمہ داری اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے ، فوری طور پر تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارڈر کھول کر کاروبار کی اجازت دی جائے ، سی پیک میں بلوچستان کو مکمل نمائندگی ، بلوچستان میں سیاست اور عوام کی ووٹ کا حق دیا جائے ، یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ،

اس موقع پر پارٹی رہنما مرتضی کاکڑ ، عبدالمتین اخوندزادہ ، زاہد اختر بلوچ ، بشیر ماندائی ، مولانا عطاالرحمن ، عبدالکبیر شاکر ، عارف دمڑ ، عبدالحمید منصوری ، ، عبدالولی شاکر ، نعیم رند ، اعجاز محبوب ، جمیل مشوانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان بدترین ظلم کا شکار ہے ، گزشتہ روز معصوم بچے مصور کاکڑ کا نہیں حکومت کا جنازہ پڑھا گیا ، 70 سال سے اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق دینے کی بجائے طاقت کے زور پر عوام کو خاموشچ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں ،

بلوچستان کو اس کے حقوق دیئے جانے کی بجائے ہمارئے بچوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے ، خواتین کی توہین کی اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے ، بارڈر بند کرکے 25 لاکھ نوجوانوں کو بیروزگار کردیا گیا اور اسلام آباد کے حکمران ہمیں اسمگلر کہتے ہین ہم اسمگلر نہیں کاروبار کرتے ہیں

جبکہ ملک کو انہی حکمرانوں نے لوٹا ہے ، جن کے بیرون ملک جائیدادیں ہیں ہماری تو بیرون ممالک کوئی جائیداد کہیں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حکمرانون کو بلوچستان کے مسائل اور یہاں کے عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کی وجہ سے سی پیک منصوبہ ہے لیکن سی پیک منصوبے کے تمام ثمرات صرف پنجاب کے لئے ہیں

یہاں ایک منصوبہ تک نہیں دوسری جانب وزیراعظم صوبے کے عوام کا مذاق اڑاتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت کم نہ کرکے کوئٹہ کراچی شاہراہ بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کے حصول اور جملہ مسائل کے حل کے لئے 25 جولائی کو کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے ۔

انہوں نے بلوچستان کے عوام کو لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حقوق کی جدوجہد میں عوام شامل ہوں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارڈر کھول کر کاروبار کی اجازت دی جائے ، سی پیک میں بلوچستان کو مکمل نمائندگی ، بلوچستان میں سیاست اور عوام کی ووٹ کا حق دیا جائے ۔