|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2025

2 مارچ 2025 سے اسرائیلی فورسز کے محاصرے میں موجود غزہ شہر عملاً قحط کے دہانے پر ہے، اہل غزہ کے لیے صرف امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ تنظیم ’غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن‘ کو مئی کے اواخر سے خوراک کی تقسیم کی اسرائیلی فوج نے اجازت دی ہے، مگر اس ’غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن‘ کی طرف سے اہل غزہ میں تقسیم کی جانے والی خوراک بشمول آٹے کے نشہ آور ادویات ملا کر فلسطینیوں کو کھلائی جارہی ہیں۔

 یہ انکشاف غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے کیا ہے، تاہم ابھی یہ اندازہ نہیں ہے کہ نشہ آور ادویات کے علاوہ کوئی زہریلی ادویات یا کیمیکل بھی سفوف کی شکل میں آٹے میں شامل تو نہیں کیے جارہے ہیں، جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہوں؟۔

خیال رہے امداد اور خوراک تقسیم کرنے کے نظام سے اسرائیل اور اس کی غزہ میں موجود فوج نے اقوام متحدہ سمیت ہر غیر جانبدار ادارے، تنظیم اور انسانی حقوق کے گروپ کو نکال دیا ہے, ان میں سے کسی کو بھی غزہ کے جنگ زدہ اور فاقوں سے مرنے والے فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج کی نگرانی میں یہ اختیار اور حق مکمل طور پر خاص ماہ مئی میں قائم کی گئی امریکی تنظیم ’غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن‘ کے سپرد ہے، اسرائیلی فوج اس کے علاوہ کسی دوسرے امدادی ادارے کو یہ کام کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔

’غزہ فاؤنڈیشن‘ پر اقوام متحدہ اور اس کے سب ادارے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اور اس کی غیر جانبداری کو بھی مشکوک قرار دیتے ہیں، اس امریکی تنظیم ’غزہ فاؤنڈیشن‘ کے خوراک تقسیم کرنے کے مراکز پوری طرح اسرائیلی فوج کے زیر حفاظت کام کرتے ہیں اور ان مراکز سے خوراک لینے کے لیے آنے والے فلسطینیوں میں سے سیکڑوں فلسطینیوں کو خوراک کی تقسیم کے موقع پر فائرنگ اور گولا باری کر کے ہلاک کیا جا چکا ہے۔

غزہ فلسطینی میڈیا آفس نے کئی ہفتوں کے اس آٹا کے استعمال کی فلسطینیوں پر اثرات کےجائزے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ ’غزہ فاؤنڈیشن‘ کے امدادی مراکز پر تقسیم کیے جانے والے آٹے میں نشہ آور مواد ’آکسی کوڈون‘ کی ملاوٹ کی جارہی ہے، میڈیا آفس نے الزام لگایا ہے کہ یہ نشہ آور مواد جان بوجھ کر ملایا جارہا ہے تاکہ فلسطینیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر ناکارہ بنایا جا سکے۔

میڈیا آفس کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے آٹے کو انتہائی نشہ آور مواد ملانے سے غزہ میں شہریوں کی صحت اور معاشرتی تانے بانے کو نشانہ بنانے والے ایک خوفناک اور نئے اسرائیلی جرم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ ایک مکمل غیر انسانی اقدام ہے جس کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔

بیان کے مطابق اس جرم کے لیے مکمل طور پر اسرائیلی قبضہ ذمہ دار ہے، جس کا مقصد لت پھیلانا اور فلسطینی معاشرے کو اندر سے تباہ کرنا ہے۔