کوئٹہ ؛ جبری لاپتہ صغیر احمد کی بہن نسیدہ بلوچ نے کہا کہ میرے بھائی اور کزن اقرار کو 11 جون کی شب اورماڑہ چیک پوسٹ سے حراست میں لیا گیا 19 روز گزرنے کے باوجود ان کے بارے میںکوئی معلومات نہیں کہ وہ کس حال میں ہے
اور کس تھانے میں رکھا گیا ہے اس سے قبل 20 نومبر 2017ء کو بھی اسے کراچی میں امتحان دینے کے لئے جاتے ہوئے لاپتہ کیا گیا اور ایک سال کے بعد رہائی ملی تھی اسے منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر کے ہمراہ احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں کو 19 روز قبل لاپتہ کیا گیا تا حال ہمیں کوئی معلومات نہیں دی جارہی کہ وہ کس تھانے اور کس جرم میں بند ہے اور انہیں کس عدالت میں پیش کیا جائے گا اس طرح کا واقعہ ہمارے لئے نیا نہیں کیونکہ میرے بھائی صغیر احمد کو 20 نومبر 2017ء کو امتحان کے بعد لاپتہ کیا گیا اور ٹارچر سیلوں میں تشدد اور غیر انسانی سلوک اور ایک سال بعد رہا کیا گیا یہ دو افراد کی کہانی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی اجتماعی فریاد ہے جو برسوں سے لوگ سن رہے ہیں
لیکن نظر انداز کیا جارہا ہے اس مظلوم خطے میں روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو اغواء کرکے لاپتہ کیا جاتا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پہاڑوں، سڑکوں کے کنارے اور صحرائوں میں پھینکی جاتی ہے یہ کیسا قانون ہے کہ جس میں انصاف نہیںا ور کیسی ریاست ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو مشکوک سمجھا جاتا ہے میرے بھائی کراچی یونیورسٹی کے بعد سرگودھا یونیورسٹی سے ماسٹر کیا اور تعلیم کے بعد اپنے علاقے اور لوگوں کی خدمت کیلئے آبائی علاقے آواران آگیا۔ جہاں روزگار نہ ملنے کے بعد مجبوراً تربت منتقل ہوا اور اپنے کزن اقرار کے ساتھ آئل ڈپو میں مزدوری کرکے روزگار کمارہا تھا اسے تربت سے کراچی جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا
انہوں نے کہا کہ صغیر احمد اور اقرار پر کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں پیش کی جائے اور وکیل کی سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنی صفائی دے سکیںانہوں نے کہا کہ اقرار بلوچ گردے کے مرض میں مبتلا ہے اسے علاج کی ضرورت ہے انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ صغیر اور اقرار کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی تنظیمیں، میڈیا، سول سوسائٹی، عدلیہ اس کے حوالے اپنا کردار ادا کریںتاکہ ان کے اہلخانہ میں پائی جانے والی تشویش دور ہوسکے۔