|

وقتِ اشاعت :   June 30 – 2025

کوئٹہ: نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بانی رہنماء اور پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ پالیسی کمیٹی کے سربراہ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سلگتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو سیاسی حل کیلئے پر امن ماحول پیدا کرکے مذاکرات کی راہ اپنانا ہوگی

کیونکہ مسئلے کا فوجی حل نہیں کیونکہ غلط پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے صوبے کے مسائل پہلے سے زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں ، وکلاء اور صحافیوں کے اعزاز میں میں دیئے گئے ظہرانہ کے موقع پر سینئر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا اس موقع پر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ، میر ہمایوں عزیز کرد، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، اسلم بلوچ، چنگیز حئی بلوچ، طاہر حسین ایڈووکیٹ ، حاجی فاروق شاہوانی،

احمد جان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ افرا سیاب خٹک نے کہا کہ میں جب بھی کوئٹہ بلوچستان آیا ہوں یہاں پر لوگوں کی شکایات حکمرانوں اور ارباب اختیار کے حوالے سے بڑی ہے ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کیونکہ حکمران اور ریاستی ادارے عوام میں پائی جانے والی تشنگی اور بد اعتمادی کو دور کرنے کیلئے وہ کردار ادا نہیں کرسکے

جس کا ادراک انہیں کرنا چاہئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سے چار سالوں کے دوران بلوچستان کے عوام میں ریاست ، حکمرانوں اور مقتدرہ کے حوالے سے بیگانگی بڑھی ہے اور ان مسائل کو حل نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مزید گہرا بنایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ کسی بھی مسئلے کا حل فوجی طاقت نہیں کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی انداز میں گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہئے اور اس کے لئے ریاست کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے اور گرفتار بی وائی سی کی قیادت سمیت دیگر کو رہا کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2014ء میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مذاکرات کا آغاز کیا

جس میں کئی شخصیات مذاکرات کے لئے تیار ہوگئے لیکن اس میں پیش رفت نہ ہوسکی جس کی بڑی وجہ ان کے بچوں کو اٹھا کر غائب کیا اور مارا جارہا تھا اس صورتحال میں کون مذاکرات کے لئے حامی بھرے گا سیاسی جماعتوں نے بھی اقتدار کے حصول کیلئے اپنے منشور اور سیاسی معاملات کو پس پش ڈال کر آئین و قانون اور جمہوریت کے اصولوں سے انحراف کیا جس کا انہیں سیاسی عمل میں نقصان اٹھانا پڑے گا اس لئے بڑی سیاسی جماعتیں مقتدرہ سے سمجھوتہ کرکے اقتدار میں آکر نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) اور کونسل آف کامن انٹرسٹ سی سی آئی کا اجلاس نہیں کیا جاتا تاکہ صوبوں کو وسائل فراہم نہ کرنے پڑے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر تمام معاملات کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ انصاف کی فراہمی کے حوالے سے عدلیہ کا کردار سب کے سامنے ہیں

لیکن ہم نے سیاسی عمل کو تقویت دینے کیلئے عدلیہ انحصار کرتے ہوئے انصاف کے اصولوں اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی ڈمی قانون سازی کے خلاف ملکی عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ سے رجوع کرنا ہے بیشک ہمیں عدلیہ سے آنے والے فیصلوں پر اختلاف ہو پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں جو غلط قانون سازی کی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور موجودہ حکومت جو قانون سازی کررہی ہے انہیں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے اور اسٹیبلشمنٹ کو اس تمام صورتحال میں بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ آئین کے آرٹیکل 6 پر عملدرآمد کرکے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہمیں آئین کے مطابق سب کا محاسبہ اور احتساب کرکے آئین اور انصاف کو تقویت دینا ہوگی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 2008ء میں آنے والی اٹھارویں ترمیم خاموش انقلاب تھی جس نے صوبوں کو صوبائی خود مختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا اور صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہوئے تاکہ پارلیمانی سسٹم تواتر کے ساتھ چل کر مضبوط ہوسکے انہوں نے بتایا کہ 2018ء میں جس طرح الیکشن ڈالا گیا اس سے بڑا ڈاکہ 2024ء کے انتخاب میں ڈالا گیا بوریوں میں اربوں روپے وصول کئے گئے اور اپنے من پسند لوگوں کو پارلیمان میں بھیج کر عوام کے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کا راستہ روکا گیا اور جس انداز میں سر عام ٹکٹوں، سیٹوں اور کامیابی کی خرید و فروخت ہوئی وہ دنیا کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے

ان انتخابات کی تحقیقات کیلئے اگر کوئی کمیشن بنا تو ہم اس میں پیش ہوکر شواہد اور حقائق سے آگاہ کریں گے جس طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خیبر پختونخوا کی پارلیمان میں خرید و فروخت سے اپنے لوگوں کو لایا گیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ایک سوال کے جواب میں کہاکہ 2013ء میں جب میں رضا ربانی، فرحت اللہ بابر سینیٹ کا حصہ تھے ہم نے تحقیقات کرکے آئی ایس آئی کو قانون کے تابع لانے کیلئے ڈیفنس منسٹری کو قانون لانے کے حوالے سے ان سے جواب طلب کیا تھا

لیکن انہوں نے تو جواب دیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت کی حالانکہ اس وقت سینیٹ سے اس حوالے سے قرار داد کثرت رات سے منظور کی گئی اگر 2013ء میں آئین کے مطابق 60دنوں میںقانون بن جاتا قانون سازی ہوجاتی تو ٹھیک تھا لیکن نہیں ہوا 2015ء میں ایک بار پھر رضا ربانی اور دیگر نے اس حوالے سے سینیٹ سے دوبارہ قرار داد منظور کرائی اس کے باوجود اس پر کوئی آگے بڑھنے کیلئے اقدام نہیں اٹھایا گیا اور اس عمل کو مستقل بنیادوں پر روکنے اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کیلئے صادق سنجرانی کو مہرے کے طور پر چیئرمین سینیٹ بناکر اس کا راستہ روکا گیا تاکہ سینیٹ سے اس کے خلاف کوئی قانونی عمل نہ کیا جائے اور مقتدرہ نے سینیٹ مزاحمت روکنے کیلئے اپنے منظور نظر کاسہ لیس سینیٹرز کو سینیٹ میں پہنچانے کی روش اختیار کی جس کے تحت صادق سنجرانی اور ان کے منظور نذر لوگوں کو پہنچایا گیا اس بار بھی اپنے منظور نذر سینیٹر کو چیئرمین سینیٹ بناکر سینیٹ کو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق چلانے کی ناکام کوشش کی جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔