کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ نوجوانوں شہریوں اورعوام کے ہمراہ عوامی حقوق کے حصول ظلم جبرلاقانونیت کے خاتمے روزگارکی فراہمی تجارت بحال کرنے بارڈربندش ولوگوں کوجبری لاپتہ کرنے کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ 25 جولائی شروع کریں گے۔
بلوچستان کے عوام کوسیاسی، معاشی حقوق دلاکرمحرومی مشکلات وپریشانیوں سے نکالنے کیلئے جمہوری مذاہمت کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی ذمہ داران ماہانہ تنظیمی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میں عبدالمتین اخوندزادہ مرتضی خان کاکڑ زاہد اختربلوچ مولانا عبدالکبیر شاکر پروفیسر مولانا محمد ایوب منصور مولانا محمد عارف دمڑمولانا محمداسلم گزگی نورالدین غلزئی پروفیسرسلطان محمدکاکڑ مولاناعبدالناصرشہاب زئی نقیب اللہ اخوانی سلطان محمدمحنتی احمدشاہ غازی نے شرکت کی اس موقع پر ذمہ داران نے انفرادی اورشعبہ جات رپورٹ پیش کیااجلاس میں 25جولائی کوئٹہ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاری منصوبہ بندی اورکرنے کے کام اضلاع کوہدف سمیت دیگرامورپرمشاورت وفیصلے کیے گیے ذمہ داران نے کہاکہ حکمرانوں مقتدرقوتوں نیحقوق کے حصول ظلم وجبرکیخلاف اسلام آبادجانے پرمجبورکیااہل بلوچستان کی آوازسننے والاکوئی نہیں جماعت اسلامی اہل بلوچستان کی تواناآوازبن کرحقوق دلائیں گے ظلم وجبرکاخاتمہ ہوگااورقوم کے وسائل چندخاندانوں پرخرچ ہونے کے بجائے قوم کی مشکلات کم کرنے پرخرچ ہوگا۔
مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہاکہ مصورکاکڑکے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکومت واداروں کی ناکامی ہے
۔بلوچستان میں بھاری سیکورٹی بجٹ کے باوجودبچے محفوظ ہیں نہ شاہراہیں مسافرمحفوظ ہیں
نہ ڈرائیورحکومت سیکورٹی ادارے یکسرناکام ہیں۔تجارت بندہیں اہل بلوچستان کو ہمسایہ ممالک ایران افغانستان کے ساتھ آزادانہ تجارت کرنے دیاجائے۔سی پیک کے فوائدوثمرات سے حصہ دلانے۔عسکری اداروں کی ظلم و انصافی اورلوٹ مار سے نجات دلائی جائے معدنی وسائل پر قبضہ گیری روکی جائیبیورو کریسی کی ناروا سلوک کو ختم کیاجائینوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور بغیر کسی عدالتی فیصلے کے ان کی لاشیں پھینکنے کے عمل کو روکاجائے ۔