پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو کھلا خط لکھ کر حکومت سے مذاکرات کی تجویز دی ہے۔
منگل کو سامنے آنے والے اس خط میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا گیا ہے۔
خط پر میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کے دستخط موجود ہیں۔ خط میں لکھا ہے کہ ملک اس وقت بدترین سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے اور اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ جامع اور سنجیدہ مذاکرات ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ہر سطح پر ہونا ضروری ہیں، چاہے وہ سیاسی سطح پر ہوں یا مقتدر حلقوں کے ساتھ ہوں۔
پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ بند گلی سے نکالنے کے لیے سیاسی سطح پر فوری مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور میں قید پارٹی رہنماؤں کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے اور مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے لیے چیئرمین عمران خان تک رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ پارٹی وسیع مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کر سکے۔
جیل میں قید تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق عمران خان سے ملاقات کا یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہنا چاہیے تاکہ بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ خط پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا گیا ہے کہ پارٹی کے اسیر رہنماؤں کی جانب سے ایک خط سامنے آیا ہے جس میں ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ مذاکرات کو قرار دیا گیا ہے۔
ماضی میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کی گئیں مگر وہ بے سود ثابت ہوئیں ۔
بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر رہنماؤں کا مذاکرات کے حوالے سے یہی موقف رہا ہے کہ وہ حکومت سے بات نہیں کرینگے بلکہ براہ راست عسکری قیادت کا نام لیکر مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں مگر پاک فوج کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے بات چیت نہیں کرے گی ،یہ ہمارا مینڈیٹ اور کام نہیں ہے سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں۔
بہرحال پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے لیکن بانی پی ٹی آئی کی مرضی و منشاہی اصل موقف ہوگا مگر اس وقت پی ٹی آئی اندرون خانہ تقسیم کا شکار ہے۔
بشریٰ بی بی سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان متحرک ہیں مگر ان کے بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اندرون خانہ معاملات بہت خراب ہیں۔ چند روزقبل اڈیالہ جیل کے باہرایک صحافی کے سوال پرعلیمہ خان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ اب عمران خان مائنس ہی ہو گئے ہیں۔
ایک اور صحافی نے انہیں بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبائی بجٹ بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بغیر ہی منظور کر لیا گیا اور اراکین پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ وہ علی امین گنڈاپور کو نہ نہیں کہہ سکتے۔
اس بات کا جواب دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اگر بوجھ نہیں اْٹھا سکتے تو گھر چلے جائیں۔
جس پر وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ علی امین گنڈا پور نے ردعمل میں کہا کہ میں صرف بانی پی ٹی آئی کو جوابدہ ہوں۔
خیبر پختونخوا حکومت کی حالیہ بجٹ کی منظوری کے بعد جاری بیان بازی پر قائدین کی جانب سے تنقید اور وضاحتیں سامنے آ رہی ہیں۔
منگل کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرنے والی ان کی بہن نورین خان کا کہنا ہے کہ ان کی اپنے بھائی سے ملاقات تقریباً 15 منٹ جاری رہی اور ان کے مطابق اس دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ کے لیے ان کی منظوری ضروری تھی اور ملاقات کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جا سکتا تھا۔
نورین خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ یہ بجٹ ان کی مشاورت سے پیش اور منظور کیا جاتا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش کرتے وقت کہا تھا کہ جب تک ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے نہیں کروائی جاتی تب تک وہ بجٹ منظور نہیں کریں گے لیکن پھر جماعت کا ایک اجلاس ہوا اور اس میں بجٹ منظور کرنے کی قرار داد منظور کی گئی۔
اس کے بعد علی امین گنڈا پور نے اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ بجٹ منظور نہ کرنے کی صورت میں وفاق کی جانب سے فنانشل ایمر جنسی نافذ کی جا سکتی تھی جس سے خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال اس تمام تر صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی خود اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اپنا بہت زیادہ سیاسی نقصان کیا ہے، اگر وہ سیاسی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے جارحانہ پالیسی نہیں اپناتی تو پارٹی تقسیم کا شکار نہ ہوتی اور نہ ہی کارکنان میں مایوسی پھیلتی ۔
اب پی ٹی آئی سیاسی طور پر بہت کمزور ہوچکی ہے حکومت مضبوط پوزیشن میں ہے۔
مخصوص نشستوں سے بھی پی ٹی آئی محروم ہوچکی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ نہیں لگتا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا اور مذاکراتی عمل شروع ہو جائیگا۔