|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2025

کوئٹہ:  نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے ساجد ترین ایڈوکیٹ کے منرل مائنز بل پر نیشنل پارٹی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر جو بلاوجہ کی ہرزہ سرائی کی ہے

یہ ان کی اور ان کے جماعت کی مجبوری ہے کہ وہ اس قسم کے بیانات کے ذریعے اپنے مردہ سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں ، منرل مائنز بل جب اسمبلی میں آیا تو ان کی جماعت کا رکن اسمبلی اعتکاف پہ ہوگا ، اور جب انسداد دہشت گردی بل آیا تو ان کا ایم پی اے اپوزیشن چیمبر میں موجود تھا اور بل کا مخالفت کرنے اسمبلی ہال نہیں آیا ، قدوسی سرکار میں موصوف سرکاری وکیل کے طورپر لاپتہ افراد کے لواحقین افراد کے خلاف عدالت میں پیش ہوتے اور ان کی پارٹی کا سربراہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کے طورپر لاپتہ لاپتہ کرتا ، ستم ظریفی کی حد تو یہ ہے کہ ساجد ترین کہتے ہیں

کہ میں نے حاجی لشکری سے کہا جو جماعتیں مائنز منرل بل پر آپ کے ساتھ ہیں ان کی پوزیشن واضع نہیں ان کی جماعت نے حاجی لشکری اور بالخصوص ساراوان ہاوس کے متعلق جو بیان دیا تھا وہ خود تاریخ کا حصہ ہے ، ساجد ترین میڈیا میں زندہ رہنے کے لیئے ہمیشہ ایسے ڈرامہ بازی کرتا ہے ،

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر گرفتار شدگان کا کیس جب نیشنل پارٹی کے رہنما راحب بلیدی ، نادر چھلگری ، چنگیز حئی بلوچ جلیل ایڈوکیٹ نے ہائی کورٹ میں جمع کی

اس کیس میں ساجد ترین کا وکالت نامہ تک جمع نہیں تھا

مگر میڈیا کے سامنے ڈرامہ بازی کرتا رہا ،ہم انہیں واضع کرتے ہیں کہ شیشہ کے محل میں بیٹھ کر پتھر نہیں پھینکیں ، ایسے عناصر کی وجہ سے بلوچستان کی بدترین حالات میں بھی بلوچستان کی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ سے پہل ایسے عناصر نے کی جن کا مقصد صرف میڈیا میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔