|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2025

رخشان: بلوچستان کے ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین میں ایک عظیم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان جناب جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بلوچستان کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وزراء، سینیٹرز، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، آئی جی ایف بلوچستان ساؤتھ، اعلٰی سول و عسکری حکام علاقائی عمائدین، اعلیٰ سول و عسکری حکام، خواتین، طلبہ و طالبات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جرگے کا آغاز یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھانے اور فاتحہ خوانی سے ہوا۔اس موقع پر شرکاء نے رخشان ڈویژن کے قبائلی عمائدین، کاروباری افراد، خواتین اور نوجوانوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور باہمی مشاورت سے تجاویز حاصل کیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رخشان ڈویژن بلوچستان اور پاکستان کا دل ہے۔

یہاں قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر کی موجودگی اسے غیر معمولی اہمیت کا حامل بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں رخشان ڈویژن کو ترجیحی بنیادوں پر زیادہ فنڈز دیے گئے ہیں۔ رخشان ڈویژن کے ہر ضلع کے لیے 1 ارب روپے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں،

جو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے استعمال ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ضلع واشک کے لیے خصوصی طور پر 30 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کو ترقی دی جا سکے۔

اسی تسلسل میں، تفتان میں نصب ہونے والے ایل پی جی پلانٹ سے حاصل شدہ منافع تفتان شہر کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریکوڈک منصوبے کا 25 فیصد منافع بلوچستان کو حاصل ہوگا۔ اس منصوبے میں تمام غیر ہنر مند ملازمین بلوچستان سے رکھے گئے ہیں، جبکہ پیشہ ورانہ شعبوں کے لیے بلوچستان کے افراد کو بیرون ملک تربیت دے کر شامل کیا جا رہا ہے، اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔مقامی افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے،

کٹاگر کراسنگ پوائنٹ کو ایران کے ساتھ راہداری کے لیے کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔مزید برآں، انہوں نے رخشان ڈویژن کے تمام سرکاری ڈگری کالجز کے بی ایس پروگرام کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپس دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔دالبندین میں خواتین پولیس اسٹیشن کا قیام اور خاران کے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے دہشت گردی کے خلاف قبائلی عوام کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ بے گناہ لوگوں کا قتل اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا قابلِ افسوس ہے۔

ریاست اپنی رٹ قائم رکھے گی اور دہشت گردی کے خلاف بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔

قبائلی رہنماؤں نے بھی جرگے سے خطاب کیا اور بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔پروگرام کے اختتام پر رخشان ڈویژن کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔