|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2025

کوئٹہ:  بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) نے گزشتہ 16 ماہ کے دوران 42,893 طلباء و طالبات کو اسکالرشپس جاری کر کے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے۔

یہ کامیابی شفافیت، میرٹ، اور ڈیجیٹل اصلاحات پر مبنی مضبوط نظام کی مرہونِ منت ہے، جس کے تحت 3.05 ارب روپے کی رقم براہ راست طلباء اور تعلیمی اداروں کو منتقل کی گئی۔

اسکالرشپ کے تمام زیرِ التواء کیسز کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور پہلی بار نظامِ اسکالرشپ کو تعلیمی سال کے شیڈول کے مطابق مربوط کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے 16 ماہ پر مشتمل موجودہ دورِ حکومت میں BEEF کو غیر معمولی ادارہ جاتی تقویت ملی ہے۔

ان کی قیادت اور سیکرٹری خزانہ عمران زرکون کی زیرِ صدارت بطور چیئرمین BEEF، ادارے کے فنڈ میں 6 ارب روپے کا تاریخی اضافہ کیا گیا اور 6 نئی مکمل فنڈڈ اسکالرشپ اسکیمز متعارف کرائی گئیں۔

ان میں ‘‘فارین پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام’’ اور ‘‘آکسفورڈ پاکستان اسکالرشپ’’ نمایاں ہیں، جو بلوچستان کے ہونہار طلباء کو دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ رواں سال بلوچستان کے 10 باصلاحیت طلباء کو فارماسیوٹیکل سائنس،

ایوی ایشن، میڈیکل سائنسز اور دیگر جدید سائنسی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا کی ممتاز جامعات میں بھیجا جا رہا ہے۔گزشتہ 10 سالہ کارکردگی (2015–2025) کے دوران BEEF نے 101,050 سے زائد اسکالرشپس جاری کیں اور مجموعی طور پر 6.66 ارب روپے سے زائد رقم تقسیم کی۔ ادارے کا اسٹریٹجک فوکس ہمہ گیر تعلیمی رسائی، عالمی معیار کی تعلیم، اور مساوی مواقع کی فراہمی پر مرکوز رہا ہے، جس کے تحت بلوچستان کے ہر ضلع اور ہر اہل طالبعلم تک رسائی کو ممکن بنایا گیا۔

ادارے کی خصوصیات میں ڈیجیٹلائزیشن، میرٹ پر مبنی اسکروٹنی، مکمل شفافیت اور احتساب کا نظام شامل ہے۔

BEEF مکمل طور پر غیرسیاسی اور میرٹ بیسڈ طریقہ کار کے تحت کام کرتا ہے، جہاں تمام اسکالرشپ فیصلے سخت اصولوں، ڈیجیٹل ویریفیکیشن، اور آڈٹ سے مشروط ہوتے ہیں۔ مالیاتی اصلاحات، مؤثر مانیٹرنگ، خودکار ڈیٹا ٹریکنگ، اور جدید بینکاری نظام کے باعث ادارے کی آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے طلباء کو بروقت اور منصفانہ سہولیات میسر آئی ہیں۔