|

وقتِ اشاعت :   July 4 – 2025

تربت : بی ایس او ایکس سینٹرل کیڈرز کے سینئر دوستوں کا لیاری میں مشاورتی اجلاس۔ بلوچستان کے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال۔

حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر مہرنگ، بیبوبلوچ، گل زادی، صبغت اللہ شاہ جی، کامریڈ عمران، ماما غفار اور دیگر سیاسی اسیران کو جلد رہا کیا جائے۔26 ویں آہینی ترمیمم، دہشتگردی ایکٹ 2025, پیکا ایکٹ اور بلوچستان مائنز اینڈ مینرل ایکٹ جو آہین پاکستان کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں کو کالعدم و منسوخ قرار دیا جائے۔آئین بحال کر کے سیاسی سرگرمیوں کی مکمل اجازت دی جائے ،

بلوچستان کے ہر سیاسی کارکن کو شک کی نگاہ سے دیکھ کر اسے ملک دشمن سمجھنے کا روش ترک کیا جائے.ایکس کیڈرز کے دوستوں کا نظریہ واضح طور پر یہ ہے کہ موجودہ خظرناک سیاسی بحران کا حل شفاف انتخابات اور کے نتیجے میں خودمختار اکائیوں کے قیام میں مظمر ہے۔

ھم قومی سوال کے اوپر جمہوری جدوجہد کا اعادہ کر کے ھمیشہ عوام کے اجتماعی زندگی پر مثبت اثرات کے بارے میں سوچتے ہیں.شخصی آمریت ، منافقت ، موقع پرستی اور تنگ نظرانہ طرز سیاست نے ھمارے سماج کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ جاگیر دار اور بیوروکریسی نے وسائل اور اختیارات پر قبضہ کر کے عام آدمی کو شدید مایوسی کی طرف دھکیلا ہے۔مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے حالات حکومت کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت کی کوئی رٹ قائم نہیں کیونکہ سرکار میں بیٹھے ہوئے یہ لوگ حقیقت میں مینڈیٹ لئے بغیر اسمبلی میں براجمان ہیں۔

ان کے زریعے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گمبھیر ھوتے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں بتایا کہ اس من گھڑت پارلیمانی سسٹم کے زریعے ڈیزائن الیکشن کر کے عوام اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ بے ہودہ مزاق کیا جا رہا ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔

اس غیر جمہوری کلچر کے اندر بلوچستان کے قوم پرست پارٹیوں کو لولی پاپ دے کر بہلایا جارہا ہے انہیں ایک ایک اور دو دو سیٹییں دے کر انہیں بے دست و پا بنا دیا گیا ہے۔

اور دوسری طرف عوام دشمن قانون سازی کر کے انہیں بائی پاس کر رہے ھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عوام کی اصل نمائیندگی کون کب اور کس طرح کرے۔ یہ اور دیگر اھم سوالات کے اوپر ایکس کیڈرز نے صوبہ بھر میں ایک بحث چھیڑ دی ہے ، جس کے لئے دوست مختلف اضلاع میں پروگرام رکھ کر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔