|

وقتِ اشاعت :   July 4 – 2025

کوئٹہ : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں جامعہ بلوچستان کے شعبہ پشتو، بلوچی اور براہوی کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اقوام و عوام دشمن اور علم دشمن اقدام قرار دیا گیا ہے۔

پارٹی نے اس فیصلے کو صوبائی حکومت کے پیچھے موجود اداروں کی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ محض اس بنیاد پر کہ ان شعبوں میں طلبہ کم اور اساتذہ زیادہ ہیں، ان شعبہ جات کو بند کرنا علمی جبر ہے، جسے کسی فورم پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ اقدام دراصل قومی زبانوں، خاص طور پر پشتو، بلوچی اور براہوی و ان اقوام کے ادبیات و تاریخ اور تمدن کے خلاف سازش ہے۔

پارٹی نے واضح کیا کہ وہ اپنی قومی زبانوں کے تحفظ و فروغ کے لیے تمام جمہوری پارٹیوں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر مزاحمت کرے گی۔ بیان میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بلوچستان کی 11 سرکاری میں اقوام نے اپنی زبان کے ذریعے ترقی کی ہے۔ پشتو محض ایک زبان نہیں بلکہ مزاحمت، فکری آزادی اور ثقافتی بقا کی علامت ہے۔

خوشحال خان خٹک، رحمان بابا اور غنی خان کی شاعری نے پشتو کو مزاحمتی ادب کی زبان بنایا ہے۔

موجودہ ریاستی پالیسیاں دانستہ طور پر پشتو زبان کو تعلیمی اور علمی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ فکری غلامی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔بیان کے آخر میں کہا گیا کہ وقت آ گیا ہے کہ پشتو زبان کو صرف بول چال کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ اسے تحقیق، سائنس، تعلیم، میڈیا اور پالیسی سازی کی زبان بنایا جائے۔ پشتو میں نصاب، سائنسی مواد، ترجمے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تحقیقی جرائد کے ذریعے علم کو عام کیا جائے۔