کراچی کے قدیم علاقے لیاری بغدادی میں 5 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی ، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے جبکہ دیگر کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عمارت میں 20 کے قریب فلیٹ تھے،گلیوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ہیوی مشینری کو پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی خستہ حال عمارتوں کے گرنے سے قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔
دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے شہر بھر میں حکام کی جانب سے ’خطرناک‘ قرار دی گئی 570 سے زائد عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اجلاس کو آگاہ کیا تھا کہ کراچی میں اتھارٹی کی جانب سے 570 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے جب کہ حیدرآباد میں 80، میرپورخاص میں 81، سکھر میں 67 اور لاڑکانہ میں 4 عمارتیں مخدوش ہیں۔
کراچی میں خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں میں اب بھی لوگ رہائش پذیر ہیں کیونکہ ان کے پاس رہنے کیلئے کوئی اور جگہ نہیں جبکہ لیاری سمیت کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں غیر قانونی طور پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں اور ان میں ناقص میٹیریل استعمال کیا جارہا ہے جو چند سالوں کے بعد رہائش کے قابل نہیں رہتیں اور خطرے کی علامت بن جاتی ہیں جن کے گرنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔
یہ سب ایس بی سی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کی ناک کے نیچے ہورہا ہے آفیسران بلڈرز سے رقم لیکر ان کو اجازت دیتے ہیں جس سے بلڈرز مافیا دھڑا دھڑ عمارتیں تعمیر کرتے ہیں۔
سندھ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ گلی ،محلوں سمیت سڑکوں پر بننے والی غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر روکے اور میٹریل کو چیک کیا جائے تاکہ بلڈرز مافیا اپنے منافع کے چکر میں انسانی جانوں سے نہ کھیل سکیں۔
بہرحال وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے، واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے شہر کی بوسیدہ و خستہ حال عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران کومعطل کرنے کاحکم دیا ہے۔
وزیر بلدیات نے عمارت گرنے کی تحقیقات کے لیے فوری طورپر کمیٹی قائم کردی جو 3 دن میں غفلت کے مرتکب افسران کی نشاندہی کے ساتھ رپورٹ پیش کرے گی۔
سندھ حکومت کو چاہئے کہ غیر قانونی بلند عمارتوں کو سیل کرے جبکہ خطرناک قرار دیئے جانے والی عمارتوں کو خالی کرانے کے ساتھ ان میں رہائش پذیر افراد کو سہولت بھی فراہم کرے تاکہ ان کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔