|

وقتِ اشاعت :   July 8 – 2025


کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ ہفتے ایک 5 منزلہ عمارت زمین بوس ہوئی جس میں اب تک 27 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے ۔
اس عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے، لیاری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اسحاق کھوڑو کو معطل کردیا گیا۔
ڈی جی ایس بی سی اے کی معطلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایس بی سی اے کا ادارہ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوث ہے جبکہ مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے اور انسانی جانوں کے بچاؤ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
بہرحال یہ محکمہ صرف ڈی جی کے ماتحت نہیں چلتا بلکہ ایک پورا سسٹم ہے جس کی سرپرستی سیاسی جماعتیں اور حکومت میں موجود شخصیات کرتی ہیں,اسی لئے شہر کی گنجان اور تنگ گلیوں میں میں دھڑا دھڑ بلند بالا عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں ۔
پورے کراچی شہر میں بلڈرز مافیا ناقص میٹریل کا استعمال کرکے 10 منزلہ سے اوپر عمارتیں تعمیر کررہے ہیں، ایس بی سی سے کی ٹیم عمارتوں کی تعمیر کے دوران کبھی کبھار چھاپہ مار کر عمارت کے کچھ حصے میں توڑ پوڑ کرکے آپریشن کا دکھاوا کرکے رقم وصول کرکے پھر انہیں کھلی چوٹ دیتی ہے جبکہ سیاسی شخصیات بغیر کسی رقم کی ادائیگی کے بلڈرز کے ساتھ ملکر اپنے پروجیکٹس چلاتے ہیں ،یہ سب کے علم میں ہے مگر اس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔
لیاری بغدادی واقعے کے بعد اب سندھ حکومت متحرک دکھائی دے رہی ہے اور سخت فیصلے کررہی ہے۔
سندھ حکومت نے شہر قائد میں انتہائی خستہ عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر لیول کے افسران کو معطل کردیاہے اور فی الوقت ایس بی سی اے کے ان افسران کو معطل کیا ہے جو اس وقت علاقے میں تعینات ہیں جب کہ 2022 میں عمارت کو مخدوش قرار دیے جانے کے وقت جو افسران تعینات تھے ان کا تعین کیا جارہا ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی میں 51 عمارتیں انتہائی خستہ ہیں، ان عمارتوں میں کتنے یونٹس اور کتنے افراد ہیں اس کی تفصیل کمشنر کراچی 24 گھنٹے میں دیں گے تاکہ ہم انہیں گرانے کا کام شروع کرسکیں۔
کراچی میں جو 588 عمارتیں ہیں جنہیں خطرناک قرار دیاگیا ہے ان کا جائزہ لے کر تفصیلات فراہم کریں گے تاکہ فیصلہ کیا جائے کہ جو عمارتیں فوری طور پر گرانے کے قابل ہیں وہ کون سی ہیں اور وہ کونسی عمارتیں ہیں جن کی مرمت کرکے انہیں ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ عوام فلیٹ یا پلاٹ بک کراتے یہ وقت ضرور چیک کریں کہ منصوبے کو منظوری حاصل ہے یا نہیں۔
بہرحال یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ گنجان آبادیوں اور گلیوں کے درمیان غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر روکے اور مخدوش عمارتوں کو خالی کراکر رہائش پذیر لوگوں کی رہائش کا بندوبست کرے تاکہ بروقت انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔
بلڈرز مافیا کی سرپرستی کرنے والے تمام عناصر کے خلاف ایکشن لیا جائے تاکہ عوام کو لوٹنے کا یہ سلسلہ رک جائے اور عمارتوں کی تعمیر کے باعث علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں کمی آسکے ،مشترکہ رہائشی عمارت کی وجہ سے انہیں بجلی، پانی اور گیس سمیت علاقے میں گندگی کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت کے اندر موجود بلڈرز مافیا کے ساتھ جڑی شخصیات کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے وگر نہ یہ سسٹم اسی طرح چلتا رہے گا اور سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔