|

وقتِ اشاعت :   July 8 – 2025

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ تحصیل سٹی سے مربوط ضلع ایگزیکٹیوز کا اجلاس پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کی صدارت میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیل سٹی میں پارٹی کی تنظیمی سیاسی کارکردگی، پارٹی فعالیت اور درپیش مشکلات کا جانچ لیا گیا اور ہر امور پر تفصیلی بحث مباحثہ کے بعد اراکین پر زور دیا گیا کہ وہ تحصیل سٹی میں اپنی بھرپور فعالیت اور ذمہ داریوں کو سرانجام دیں اور تنظیمی فعالیت میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی۔

اجلاس میں پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز منان خان بڑیچ، رزاق ترین، اقبال بٹے زئی، حفیظ ترین نے شرکت کی۔ اجلاس سے پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی جھنڈے کا احترام پارٹی کے کارکن ہر کارکن پر فرض ہے کوئٹہ شہر میں بعض افراد وگروہ پارٹی جھنڈوں کو اپنی گاڑیوں میں رکھنے،

مختلف تنازعات کے دوران پارٹی کا نام استعمال کرنے،خو د کو پارٹی کا نمائندہ ظاہر کرنے کے غیر اخلاقی، غیر پشتنی ناروا عمل کے مرتکب ہورہے ہیں ایسے افراد جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں انہیں اخلاقی طور پر اس ناروا عمل کو ترک کرنا ہوگا اور پارٹی کارکن ایسے افراد یاگروہ کے تقاریب وپروگراموں سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس غیر وقت یقینی صورتحال سے دوچار ہے، آئین کی پائمالی، پارلیمنٹ کی بے توقیری، حقیقی جمہوریت سے انکار کی روش ملک کو مزید بحرانوں سے دوچار کریگی۔

صوبے بالخصوص کوئٹہ شہر میں بدترین بیروزگاری اور سخت ترین مہنگائی کی صورتحال نے سفید پوش خاندانوں کو بھی نان شبینہ کا محتاج بنادیا ہے۔ موجود ہ فارم 47کی حکومت /حکومتوں سے نجات کے لیے عوام کو متحد ہونا ہوگا اور ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان جس کا مقصد ملکی آئین کو تحفظ دینا ہے اس کے سربراہ محمودخان اچکزئی کی قیادت میں جاری جدوجہد میں اپنا فعال ومثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ 8فروری زروزور کی بنیاد پر فارم47کی مسلط حکومتیں مستعفی ہو اور ملک میں از سر نو شفاف غیر جانبدارنہ انتخابات منعقد کرکے جنہیں عوام ووٹ دیں اسے تسلیم کیا جائے اور عوامی حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالنے، عوام کی رائے سے انحراف کی صورتحال ملک کو مزید نقصانات سے دوچار کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی کی قلت اور زیر زمین پانی کی سطح حد درجہ نیچے جانے کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے لیکن حکومت اور متعلقہ ادارے اس پر غیر سنجیدہ ہیں۔ طویل خشک سالی اور اس کے نتیجے میں نہ صرف قحط کی صورتحال مسلط ہوئی ہے

بلکہ زراعت اور لائیو سٹاک کا شعبہ بھی تباہی سے دوچار ہوا ہے۔ اسی طرح حکومتی ناقص کارکردگی کے باعث تعلیم، صحت، آبنوشی سمیت ہر شعبہ زندگی مفلوج ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی ایک نئی لہر آگئی ہے، اشیاء خوردونوش اور اشیاء ضروریات کی قیمتوں میں اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

ایک جانب کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ہے دوسری جانب مہنگائی مسلط ہے اور پھر آئے روز انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں پر چھاپوں، تجاوزات کے نام پر ریڑی بانوں کو تنگ کرنے، پارکنگ کے متبادل نظام کے قیام کے بغیر سڑکو ں کو ٹریفک کے لیے بند کرنے کے اقدامات دراصل ستار روڈ کے بعد دیگر بازاری علاقوں کے تاجروں کو بھی مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔

اجلاس میں پارٹی کے ضلعی رہنماؤں پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ پارٹی کے آئین ومنشور کے مطابق اپنے سیاسی،تنظیمی سرگرمیوں کو دوبالا کرتے ہوئے تحصیل سٹی کے تمام علاقائی یونٹس، ابتدائی یونٹس کی فعالیت، ان کے ممبرز شب کو مکمل کرنے اور بعد ازاں علاقائی کانفرنسز کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔