|

وقتِ اشاعت :   July 10 – 2025

ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ شوگر ڈیلروں نے پچھلے سال حکومت کو چینی مہنگی نہ ہونے کا یقین دلا کر چینی برآمد کی اجازت لی تھی اور بیرونِ ملک چینی بیچ کر ملک میں زرمبادلہ بڑھنے کی آس دلائی تھی، ڈالرز لانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ کرشنگ سیزن سے پہلے ملک میں نہ چینی کم ہوگی نہ قیمتیں بڑھیں گی، نہ چینی درآمد کرنے کی ضرورت پڑے گی لیکن سارے وعدے، ساری یقین دہانیاں ہوا میں اڑ گئیں۔
چینی کی قیمت آؤٹ آف کنٹرول ہوئی، چینی درآمد کرنے کی بھی نوبت آگئی، چینی بیچنے سے ڈالر تو ملک میں آگئے لیکن چینی خریدنے پر ڈالرز کے خرچے کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
دسمبر 2024 میں جس چینی کا ایکس مل ریٹ 125 سے 130 روپے کلو تھا، آج وہ چینی ریٹیل میں 190 سے 200 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔
لاہور میں چینی 6 روپے اور کوئٹہ میں 5 روپے کلو مہنگی ہوگئی، ایک کلو چینی لاہور میں 190 روپے اور کوئٹہ میں بھی 190روپے میں فروخت ہورہی ہے۔
کوئٹہ میں چینی ایک ماہ میں 10 روپے فی کلومہنگی ہوئی ہے اور کراچی میں چینی کا ریٹ 200 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب وزارت غذائی تحفظ نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں کمی کے لیے پانچ لاکھ ٹن چینی امپورٹ کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
وزارت غذائی تحفظ کے اعلامیے کے مطابق چینی کی امپورٹ حکومتی شعبے کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ چینی کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ چینی کی امپورٹ ماضی سے مختلف بہتر حکمت عملی سے کی جارہی ہے۔
وزارت غذائی تحفظ نے اپنے اعلامیے میں یہ وضاحت بھی کی کہ جب حکومت نے چینی ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت ملک میں چینی وافر مقدار میں دستیاب تھی اور اب چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لئے چینی امپورٹ کی جا رہی ہے۔
بہرحال یہ پہلی بار نہیں کہ چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے بلکہ ماضی میں بھی چینی ایکسپورٹ کرنے کے بعد ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوتی رہی ہے اورپھر اس کی قیمت بڑھائی جاتی رہی ہے۔؂
شوگر مافیا ہر سیزن میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں بہت زیادہ تعداد میں چینی موجود ہے لہٰذا چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دی جائے اور حکومت کی جانب سے انہیں اجازت مل بھی جاتی ہے باوجود اس کے کہ یہی شوگر مافیا چینی کی قلت کو جواز بناکر مارکیٹوں میں چینی مہنگے داموں فروخت کرتی ہے جس کا بوجھ عوام برداشت کرتی ہے لیکن شوگر مافیا کروڑوں روپے منافع کماتی ہے کیونکہ یہ سارے بااثر شخصیات ہیں، انہی کے شوگر ملز ہیں یہی چینی ایکسپورٹ کرکے ڈالروں میں رقم بناتے ہیں جبکہ ملک میں چینی کی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری میں لگ جاتے ہیں اور غریب عوام مزید مہنگائی کی چکی میں پس جاتے ہیں ۔
مافیاز کا راستہ روکنا اور عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔