|

وقتِ اشاعت :   July 11 – 2025

ملک میں روزگار کے مواقع فی الحال بہت محدود ہیں، نوجوان طبقے کی بڑی تعداد بیروزگاری سے پریشان ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے باوجود ڈگریاں لیکر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، روزگار کے مواقع پیداکرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ نوجوانوں میں موجود مایوسی ختم ہو اوروہ منفی سرگرمیوں کی طرف نہ جائیں۔
پاکستان میں بیروز گاری کی شرح بھارت اور بنگلا دیش سے بھی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔
پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں بیروز گاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
مہنگی بجلی اور گیس، بھاری ٹیکسوں سے پیداواری لاگت بڑھی تو سینکڑوں صنعتیں بند ہوئیںجس کے باعث لاکھوں لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے۔
صنعت کار بھی اس صورتحال سے خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی صنعتوں کی پیداوار کم ہوکر گئی ہے، درجنوں ٹیکسٹائل مل بند ہوئے ہیں، پلاننگ کمیشن کے مطابق بیروزگاری ختم کرنے کیلئے پاکستان کو سالانہ 15 لاکھ نوکریوں کی ضرورت ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور سرکاری ادارے براہِ راست چلانے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
ابرار احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’رائٹ سائزنگ‘ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی حکومتی کمپنیاں جو کاروبار کر رہی ہیں وہ منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں۔
سیکریٹری کے مطابق ان کمپنیوں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا، اس دوران غیر ضروری سرکاری ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے گا اور مختلف وزارتوں میں ان کا انضمام کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اب نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے کیونکہ ریاست اداروں کو براہِ راست نہیں چلا سکتی اور ایسی ہی کوششوں سے پہلے ملک نقصان اٹھا چکا ہے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر بھی غور ہوا جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کئی کام صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت بعض اداروں کو ختم یا ضم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے بل کی منظوری پر احتجاج کیا اور کہا کہ قانون سازی میں جلد بازی مناسب نہیں، تاہم کمیٹی نے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
بہرحال سرکاری محکموں میں بھرتیاں کئی برسوں سے بند ہیں، محدود پیمانے پر ملازمتیں فراہم کی جارہی ہیں اور اس میں بھی عمر کی شرط بہت کم رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے بعض افراد ملازمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
حکومت پبلک پارٹنر شپ سمیت صنعتوں کی ترقی اور سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دے، مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے صنعتیں بحال ہونگی جس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے جبکہ دیگر بڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے بھی ملکی معیشت میں نمایاں بہتری کے ساتھ روزگار کے مسائل حل ہونگے جس سے بیروزگاری کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔