ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، ایک ہفتے میں 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 6 اشیاء سستی اور 26 کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔
حالیہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں 0.95 فیصد اضافہ جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی 0.73 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اسی طرح حالیہ ہفتے میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 1.23 فیصد رہی ہے۔
حالیہ ایک ہفتے کے دوران آلو کی قیمتوں میں 2.79فیصد،پیاز کی قیمتوں میں6.25 فیصد، ٹماٹرکی قیمتوں میں13.45 فیصد،لہسن کی قیمت میں2.36 فیصد، گڑکی قیمت میں1.89 فیصد، چینی کی قیمت میں1.90 فیصد،باسمتی ٹوٹا چاول کی قیمتوں میں0.84 فیصد اور چکن کی قیمت میں22.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ ایل پی جی کی قیمت میں2.56 فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمت میں0.81 فیصد، دال مونگ کی قیمت میں0.41 فیصد، کوکنگ آئل کی قیمت میں0.20 فیصد، بناسپتی گھی کی قیمت میں0.02 فیصد اور آٹے کی قیمت میں0.02 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.06فیصد اضافے کے ساتھ منفی 1.83 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.10فیصد اضافے کے ساتھ منفی 2.79فیصد رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کا کچن محدود ہوکر رہ گیا ہے، ملک میں بڑھتی مہنگائی کی شرح نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، دیہاڑی دار اور تنخواہ دار طبقے کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، گھریلو اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے عام لوگ اپنی ضروریات کو پوری کرنے سے بھی رہ گئے ہیں۔
حکومتی سطح پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
عام مارکیٹوں میں اشیاء خورد و نوش سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، مہنگائی نے عوام کے ہوش اڑا دیئے ہیں پرائس کنٹرول کمیٹی اور انتظامیہ ملک بھر میں غیر فعال ہیں مافیاز کے رحم و کرم پر غریب عوام کو چھوڑ دیاگیا ہے۔
بہرحال حکومتی ترجیحات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے، عام لوگوں کی مشکلات میں کمی گڈ گورننس سے آئے گی نیز معیشت میں بہتری کا براہ راست فائدہ عوام کوپہنچانا ضروری ہے تاکہ ان کے مسائل میں کچھ تو کمی آئے۔