|

وقتِ اشاعت :   July 13 – 2025

بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے ،سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کی وجہ سے بلوچستان بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔

بلوچستان میں قیام امن کیلئے یقینا تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا اور ایک بیانیہ پر متفق ہونا ہوگا تاکہ دیرینہ امن و امان کے مسئلے کے حل سمیت سیاسی استحکام ممکن ہوسکے۔

بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں سرحد پار دہشتگردی کے واقعات مسلسل رونماہورہے ہیں افغان عبوری حکومت کے سامنے پاکستان نے سرحد سے دراندازی کے معاملے کو متعدد بار اٹھایا ہے ،احتجاج ریکارڈ کرانے کے ساتھ افغان عبوری حکومت کو ملکر امن و امان کی پیشکش بھی کی ہے مگر اس کا کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔

پاکستان نے خطے میں استحکام و ترقی کیلئے بھارت کے ساتھ بھی تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی پیشکش متعدد بار کی ہے مگر مودی سرکار اپنی انتہاء پسندانہ و دہشتگردی کے رویہ کو ترک کرنے کی بجائے خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کے درپہ ہے ۔

پلوامہ، پہلگام جیسے واقعات کو جواز بناکر پاکستان پر نہ صرف الزام تراشی کی ہے بلکہ دہشتگردی کے واقعات کرانے کے ساتھ پاکستان پر بلاجواز حملہ بھی کیا جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کو مجبور ہوکر سیز فائر کا راستہ اپنانا پڑا۔

پاکستان اب بھی مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتا ہے جس کی پیشکش پاکستان نے خطے میں امن کیلئے کی ہے مگر بھارتی رویہ پرتشدد ہے ۔

جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار خطے میں امن نہیں چاہتا بلکہ دہشتگردی کو مزید پروان چڑھا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت ہوتی ہے، بھارتی پراکسیز ان واقعات میں ملوث ہیں، پاکستان یہ معاملہ دنیا میں ہر فورم پر اٹھا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح ہے ، اس بارے میں بلاول بھٹو زرداری نے کوئی متضاد بیان نہیں دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے جبکہ تائیوان کے معاملہ پر ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، پاکستان برکس ممالک کی تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے، برکس کے بارے میں جو چیزیں سامنے آرہی ہیں ہم کمنٹ نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ ضلع ژوب کے علاقے ڈب سرہ ڈاکئی میں گزشتہ رات دہشت گردوں نے بس سے اتار کر اور شناخت کے بعد 9 مسافروں کی جان لے لی۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کی میتیں پنجاب بلوچستان بارڈر پرس بواٹہ کے مقام پر ڈی جی خان انتظامیہ کے حوالے کی گئیں۔ واقعہ کا مقدمہ تھانا سی ٹی ڈی ژوب میں درج کرلیا گیا جس میں قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔

بہرحال بلوچستان میں امن کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے جس میں بلوچستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ملکر کام کرنا چاہئے۔

بلوچستان میں دیرپا امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ،وفاقی حکومت کو بھی بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھاکر اے پی سی بلانے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے دہشت گردی کا تدارک کو ممکن بنایا جاسکے۔

بلوچستان ملک کی ترقی و خوشحالی کی کنجی ہے یہاں امن اولین ترجیح ہونی چاہئے لہذا سنجیدہ کوششوں کا آغاز کرکے بلوچستان میں ڈائیلاگ کا راستہ نکالا جائے تاکہ ترقی کا سفر جاری رہ سکے اور مستقل امن یقینی ہوسکے۔